الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب أمر المتمتع بالتحلل بعد السعي والحلق أو التقصير إلا من ساق هديا.
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
حدیث نمبر: 4409
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: ( (إِنِّي قَدْ قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ) )
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کے بعد احرام کھول رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہیں ہو رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس قربانی کا جانور ہے اور میں نے اسے قلادہ ڈالا ہوا ہے اور اپنے سر کو لیپ کیا ہوا ہے، لہٰذا حج سے فارغ ہونے تک حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26956»
وضاحت: فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران کر رہے تھے، اس لیے اس حدیث کا معنییہ ہو گا: اے اللہ کے رسول! آپ حج کے ساتھ جو عمرہ کر رہے ہیں، اس سے حلال کیوں نہیں ہو رہے؟
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4409 in Urdu