الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسِيرِ إِلَى عَرَفَةَ
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 4438
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا وَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ
۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 970، 1659، ومسلم: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13555»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 970
حدیث نمبر: 4439
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات کو روانہ ہوئے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہنے والا ہوتا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4458»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1284
حدیث نمبر: 4440
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَرَفَةَ مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ، أَمَّا نَحْنُ نُكَبِّرُ، قَالَ: قُلْتُ: الْعَجَبُ لَكُمْ كَيْفَ لَمْ تَسْأَلُوهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے،ہم میں کوئی تکبیر کہنے والا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا،تاہم ہم تو تکبیریں کہہ رہے تھے۔عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر سے کہا: تم پر بڑا تعجب ہے، تم نے (سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ) سے یہ کیوں نہیں پوچھا تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کچھ کیا تھا؟ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4850»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ حج کا احرام باندھنے سے لے کر دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ ”لَبَّیْکَ، اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ … “ کا حکم جاری رہتا ہے، لیکن بیچ میں تکبیر و تہلیل جیسے دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1284