الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ وُجُوبِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَوَقْتِهِ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4441
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: ( (الْحَجُّ عَرَفَةُ فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَأَيَّامُ مِنَى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ فَصَارَ يُنَادِي بِهِنَّ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن یعمردیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا، اسی دوران نجد کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ٍانہوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!حج کیسے ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:حج عرفہ کا نام ہے، جو آدمی مزدلفہ والی رات کو نمازِ فجر سے پہلے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج مکمل ہے اور حج کے بعد منیٰ میں تین دن گزارنے ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} (جو آدمی جلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد چلاجائے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرارہے (اور تین دن پورے کرے) اس پربھی کوئی حرج نہیں)۔ اس کے بعد آپ نے ایک آدمی کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا، وہ ان مسائل کو پکار پکار کر بیان کرتا جارہا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4441]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 5/ 256، وابن ماجه: 3015، والترمذي: 889، 890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18981»
وضاحت: فوائد: … یعنی حج کا بڑا رکن عرفہ کا وقوف ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے کہا: اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ عرفہ کی سرزمین کے کسی حصے میں اس وقت میں لمحہ بھر کا وقوف کفایت کرے گا۔مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 5/ 256
حدیث نمبر: 4442
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَى جَمْعًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ: ( (مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ) )
۔ سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں حج کیا، وہ رات کو پہنچا تھا، اس وقت لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ عرفات چلا گیا، پھروہاں سے واپس مزدلفہ آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نے اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو خوب مشقت میں ڈالا ہے، کیا میرا حج ہوگیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور پھر ہماری روانگی تک یہیں وقوف کیااور اس سے قبل وہ دن یا رات کے کسی حصہ میں عرفات سے ہوآیا ہو تو اس کا حج مکمل ہے اور اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 891، والنسائي: 5/ 263، وابن ماجه: 3016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16310»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نو ذوالحجہ کا دن اور اس کے بعد آنے والی رات، اس دورانیے میں کسی وقت بھی عرفات میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنٰی سے عرفات میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال تک وادیٔ نمرہ میں قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ عرنہ میں تشریف لائے، وہاں خطبہ ارشاد فرمایا اور جمع تقدیم کے ساتھ ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں، بعد ازاں عرفہ میں تشریف لا کر وقوف شروع کیا۔ ذہن نشین رہے کہ نمرہ اور عرنہ کی وادیاں عرفہ کا حصہ نہیں ہیں۔
اب ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول عام ہے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل خاص ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال کے بعد وقوفِ عرفہ شروع کیا۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کی روشنی میں قول کو خاص کر دیا ہے، جبکہ امام احمد نے قولی حدیث کے عموم کو باقی رکھا ہے، یعنی ان کے نزدیک زوال سے پہلے بھی وقوف ہو سکتا ہے۔ امام احمد کا قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی عام کے بعض افراد پر عمل کر لینا اور دوسروں کی نفی نہ کرنا، اس سے تخصیص لازم نہیں آتی۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے مشہور بات یہ ہے کہ ”تَفَث“ سے مراد وہ چیز ہے جو محرِم حلال ہوتے وقت سر کے بال کاٹنے یا مونڈنے، زیرِ ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور دوسرے امورِ فطرت کو سرانجام دینے کی صورت میں کرتا ہے، ویسے ایک لحاظ سے اس میں قربانیاں کرنا اور حج کے تمام مناسک ادا کرنا بھی آ جاتا ہے، کیونکہ ان مناسک کے بعد ہی ”تَفَث“ کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ”تَفَث“ کے اصل معانی میل کچیل کے ہیں۔ دراصل اس جملے سے مزدلفہ اور عرفات کے وقوف کی اہمیت کو ثابت کیا جا رہا ہے۔
اب ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول عام ہے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل خاص ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال کے بعد وقوفِ عرفہ شروع کیا۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کی روشنی میں قول کو خاص کر دیا ہے، جبکہ امام احمد نے قولی حدیث کے عموم کو باقی رکھا ہے، یعنی ان کے نزدیک زوال سے پہلے بھی وقوف ہو سکتا ہے۔ امام احمد کا قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی عام کے بعض افراد پر عمل کر لینا اور دوسروں کی نفی نہ کرنا، اس سے تخصیص لازم نہیں آتی۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے مشہور بات یہ ہے کہ ”تَفَث“ سے مراد وہ چیز ہے جو محرِم حلال ہوتے وقت سر کے بال کاٹنے یا مونڈنے، زیرِ ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور دوسرے امورِ فطرت کو سرانجام دینے کی صورت میں کرتا ہے، ویسے ایک لحاظ سے اس میں قربانیاں کرنا اور حج کے تمام مناسک ادا کرنا بھی آ جاتا ہے، کیونکہ ان مناسک کے بعد ہی ”تَفَث“ کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ”تَفَث“ کے اصل معانی میل کچیل کے ہیں۔ دراصل اس جملے سے مزدلفہ اور عرفات کے وقوف کی اہمیت کو ثابت کیا جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 891
حدیث نمبر: 4443
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِي، … الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند)سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچا ہوں اور میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا ہے … [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16309»
وضاحت: فوائد: … پہلے یہ ترتیب بیان کی جا چکی ہے کہ حجاج کرام نو ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد مِنٰی سے روانہ ہو جائیں گے اور عرفات پہنچ کر غروب ِ آفتاب تک وقوف کریں، سورج کے اچھی طرح غروب ہوتنے کے بعد مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیںاور یہاں مغرب وعشاء کو جمع کر کے اور نماز فجر کو اس کے پہلے وقت میں ادا کریں گے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس وقت تک عرفات میں پہنچ ہی نہ سکے تو وہ رات کا کچھ حصہ وقوف کر کے مزدلفہ پہنچ کر نمازِ فجر ادا کرے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16309
حدیث نمبر: 4444
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ: ( (هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ) )
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اوراس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور سارا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 613»
وضاحت: فوائد: … یعنی جس طرح وہ جگہ موقِف ہے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے ہوئے تھے، اسی طرح سارا عرفہ موقِف ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922
حدیث نمبر: 4445
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنَى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ) )
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا میدانِ عرفات وقوف کی جگہ ہے، البتہ تم وادیٔ عرنہ سے ہٹ کر رہو، اسی طرح سارامزدلفہ جائے وقوف ہے اور تم وادیٔ محسر سے دور رہو اورمنیٰ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور تشریق کے تمام ایام قربانی کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 1126، وابن حبان: 3854،و البيھقي: 9/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16872»
وضاحت: فوائد: … مِنٰی اور عرفہ کے درمیان وادیٔ عرنہ اور مِنٰی اور مزدلفہ کے درمیان وادیٔ مُحَسِّر واقع ہے۔ چونکہ وادیٔ عرنہ عرفہ کا اور وادیٔ محسر مزدلفہ کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ وقوف ان سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، حدیث نمبر (۴۴۸۵)میں یہ بات آ رہی ہے کہ وادی محسر مِنی کا حصہ ہے، بہرحال اس میں قیام کرنا منع ہے۔ وادیٔ مُحَسِّر کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ابرہہ کا ہاتھی اس وادی میں آ کر تھک گیا، اس پر ابرہہ اور اس کے ساتھیوں کو حسرت ہوئی، جبکہ مُحَسِّر کا معانی حسرت میں ڈالنے والا ہے۔ ایک پتھر کی پھینک تک اس وادی کا احاطہ ہے۔حدیث کے آخری ٹکڑے سے معلوم ہوا کہ (۱۳) ذوالحجہ کے دن غروبِ آفتاب تک قربانی کی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 1126
حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو (يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ) عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي مَكَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ بَعِيدٍ، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: ( (كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ) ) لِمِكَانٍ تَبَاعَدَهُ عَمْرٌو
۔ یزید بن شیبان کہتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم موقف سے دور ایک مقام میں تھے، اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم اپنی اسی جگہ پر ٹھہرے رہو، تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر ہی ہو۔ یہ فرمان اس جگہ کے بارے میں تھا، جس کو عمرو دور سمجھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1919، والترمذي: 883، والنسائي: 5/ 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17365»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1919
حدیث نمبر: 4447
عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ، قُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ مَا شَأْنُهُ هَاهُنَا
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1664، ومسلم: 1220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16857»
وضاحت: فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کسی حج کا ہے، اس وقت سیدنا جبیر کافر تھے اور فتح مکہ یا غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے، ان کو اس سے تعجب ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو قریشی ہیں اور عرفات میں وقوف کر رہے ہیں۔ اگلے باب کی پہلی حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں قریشی لوگ وقوفِ عرفہ ترک کر کے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور کہتے تھے: ہم لوگ ”حُمْس“ ہیں، اس لیے ہم حرم سے نہیں نکلیں گے اور باقی سارے لوگ عرفہ میں پہنچ کر وقوف کرتے تھے۔”حُمْس“، ”تَحَمُّس“ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی تشدّد اور مذہب میں سخت اور پکے ہونے کے ہیں، اس سے مراد قریشی اور وہ قبائل ہیں، جنہوں نے اُن کی طرح تشدّد اختیار کیا ہوا تھا۔ عرفہ کا وقوف حج کا سب سے مشہور رکن ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔
اس دن کا وقوف کیسے کیا جائے؟ اس کا بیان اگلے باب میں آ رہا ہے۔
اس دن کا وقوف کیسے کیا جائے؟ اس کا بیان اگلے باب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1664