الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ رَمْيِ الْجِمَارِ وَحُكْمِهَا وَعَدَدِ صِحَى الرَّمْيِ وَصِفَتِهِ وَمَنْ
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
حدیث نمبر: 4496
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا}) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جبریل، ابرہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کی طرف لے کر چلے،تو شیطان سامنے آگیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں،سو وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابرا ہیم علیہ السلام جمرۂ وسطی کے پاس آئے تو پھر شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو پھر سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام جمرۂ قصویٰ کے پاس گئے، وہاں بھی شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو یہاں بھی سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اباجان! آپ مجھے باندھ دیں تاکہ جب آپ مجھے ذبح کریں تو میں نہ تڑپ سکوں اور اس طرح میرا خون آپ کے اوپر نہ پڑے، ابراہیم علیہ السلام نے اسے باندھ دیا اور جب انہوں نے چھری سنبھالی تو پیچھے سے آواز آئی: اے ابرا ہیم! ا ٓپ نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2794»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۴۱۳۷) دیکھیں۔جمہور محقق اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کیا گیا تھا، نہ اسحق علیہ السلام کو، قرآن مجید کے ظاہری سیاق و سباق کا بھییہی تقاضا ہے، ہم کتاب التفسیر میں سورۂ صافات میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4497
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ: ( (هَلُمَّ الْقُطْ لِي) ) فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ: ( (نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مزدلفہ کی صبح کو فرمایا: ادھر آؤ، میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لایا، آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: جی ہاں! بالکل اسی قسم کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں حد سے تجاوز کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4497]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 3029، والنسائي: 5/ 269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1851»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن ماجه: 3029
حدیث نمبر: 4498
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِبْ بَعْضُكُمْ (وَفِي لَفْظٍ: لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ) وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) ) فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ
۔ سلیمان بن عمرو کی ماں (سیدہ ام جندب ازدیہ) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دس ذوالحجہ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور فرمایا: لوگو!ایک دوسرے کو قتل کرونہ ایذا پہنچاؤ، جب تم جمرے کی رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات کنکریاں ماریں اور اس کے بعد آپ وہاں نہ رکے، ایک آدمی آپ کے پیچھے سوار تھا،جو (لوگوں کی کنکریوں سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کر رہا تھا،میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4498]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1966، 1967، وابن ماجه: 3028، 3031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16185»
وضاحت: فوائد: … جمروں کی رمی کرتے وقت ہجوم کر کے اور بڑے بڑے پتھر مار کر ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1966
حدیث نمبر: 4499
عَنِ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُوسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسِتِّ حَصَيَاتٍ فَقَالَ: لِيُطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ قَالَ: فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا فَسَأَلْتُهُ وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ طَاوُوسٍ فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا بَلَغَهُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَيْنَا الْجِمَارَ أَوِ الْجَمْرَةَ فِي حَجَّتِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاكَرُ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِثَمَانٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِتِسْعٍ فَلَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا
۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے پوچھاکہ اگر کوئی آدمی جمرے کو چھ کنکریاں مارے تو اس کا کیا بنے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ایک مٹھی کھانا صدقہ کرے۔ اس کے بعد جب میری مجاہد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے طاؤس کے فتوے کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، کیا سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ قول ان تک نہیں پہنچا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے موقع پر ہم نے جمرات کی رمی کی، اس کے بعد ہم بیٹھے باتیں کررہے تھے، کسی نے کہا: میں نے چھ کنکریاں ماریں ہیں، کسی نے کہا: میں نے تو سات ماری ہیں، کسی نے کہا: میں نے آٹھ ماری ہیں اور کسی نے کہا: میں نے نوماری ہیں، پھر انھوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4499]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، مجاھد لم يسمع من سعد بن ابي وقاص۔ أخرجه النسائي: 5/275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1439»
وضاحت: فوائد: … جمہوراہل علم کا مسلک یہ ہے کہ سات کنکریاں مارنا ہی ضروری ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه