🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ وَقْتِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4500
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ قَالَ سُفْيَانُ: بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: ( (أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ) ) وَزَادَ سُفْيَانُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے لڑکوں کومزدلفہ سے رات ہی کو گدھوں پر سوار کر کے روانہ کردیا تھا، سفیان کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری رانوں پر تھپکی دیتے اور فرماتے: میرے پیارے بیٹو! سورج طلوع ہونے تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔ سفیان نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقلمند آدمی طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1940، والنسائي: 5/270، وابن ماجه: 3025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:2082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2082»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۴۸۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ خواتین نے نماز فجر سے پہلے کنکریاں مار لی تھیں، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے رہے ہیں کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہیں کی جا سکتی، ان روایات میں جمع تطبیق کی دو صورتیں ہی ہو سکتی ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم یہی ہے کہ مزدلفہ سے وقت سے پہلے چلے جانے والے معذور لوگ طلوع آفتاب کے بعد ہی رمی کریں، لیکن جن خواتین سے فجر سے پہلے رمی کی تھی،یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا اور یہ کوئی بعید بات نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ان کو مزدلفہ سے رات کو نکل جانے کی اجازت دی ہو، لیکن انھوں نے اس سے یہ استدلال کر لیا ہو کہ وہ مِنٰی پہنچ کر رمی بھی کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ طلوع آفتاب، بلکہ طلوع فجر سے پہلے کا وقت ہو۔ (۲) جو خواتین و حضرات زیادہ بوڑھے اور زیادہ معذور ہوں اور وہ ہجوم کو برداشت نہ کر سکتے ہوں تو وہ طلوع آفتاب سے پہلے بھی رمی کر سکتے ہیں، باقی عام معذور لوگوں کو چاہیے کہ وہ سورج کے نکلنے کے بعد ہی کنکریاں ماریں۔
”یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا“ اصل بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ فجر سے پہلے رمی کرنے والوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے پھر موقوف روایت اور مرفوع کے درمیان بنیادی طور پر تعارض نہیں ہوتا۔ تعارض مرفوع صحیح روایات کے درمیان سمجھا جاتا ہے جس کو حل کرنے کے لیے توجیہیا ترجیح وغیرہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ اس جگہ مرفوع بات یہ ہے کہ آپ

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1940
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4501
عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنَى يَوْمَ النَّحْرِ فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس ذوالحجہ کو اپنے اہل کے ساتھ منیٰ کی طرف روانہ کیا تھا، ان حضرات نے فجر ہوتے ہی رمی کرلی تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس۔ أخرجه الطيالسي: 2729، والطبراني: 12220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2936»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس۔ أخرجه الطيالسي: 2729
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4502
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعُقْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی تھی اور باقی ایام تشریق میں زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15365»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1299
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو چاشت کے وقت جمرۂ اولی کی رمی کی تھی اور اس کے بعد (باقی دنوں میں) زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14406»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4504
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے جمرہ کو کتنی کنکریاں ماریں تھیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15278»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ دس ذوالحجہ کو صبح کی نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکہ میں آ ملیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، وقد اختلف في وصله و ارساله، وارساله اصح، ثم ان ابا معاوية اضطرب في متن۔ أخرجه ابويعلي: 7000، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 3519، والبيھقي: 5/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27025»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں واقعی کسی راوی سے کوئی خطا ہو گئی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو نمازِ فجر مزدلفہ میں ادا کی تھی۔ امام احمد نے کہا: یہ بات تو تعجب میں ڈال دینے والی ہے، بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو مکہ میں کیا کرنا تھا۔ یہ بھی احتما ہے ل کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہو اور اصل عبارت یوں ہوں: أَمَرَھَا یَوْمَ النَّحْرِ أَنْ تُوَافِیَ مَعَہُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ،یعنییوم النحر کے بعد والے دن ملاقات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءً وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ
۔ نافع بن عمر جمحی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عطا ء، ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا،یہ سب لوگ دس ذوالحجہ کو فجر سے پہلے رمی کرلیتے تھے۔امام احمدنے ان سے کہا: ابو سلیمان! آپ نے یہ بات نافع بن عمر سے کس سال سنی تھی؟ انہو ں نے کہا: ۶۹؁ھ میں، جس سال سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20547»
وضاحت: فوائد: … حجاج کرام سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں اور تقریباً چاشت کے وقت مِنٰی میں پہنچ جائیں گے اور اسی وقت جمرۂ عقبہ کی رمی کریں گے، جو معذور لوگ پہلے سے مِنٰی پہنچ چکے ہوں گے، وہ حجاج کرام کے بڑے ہجوم کے پہنچنے سے پہلے لیکن طلوع آفتاب کے بعد رمی کریں گے۔

الحكم على الحديث:
اثر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں