🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِي الصَّلَاةِ فِيهَا
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4593
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، وَ أَنَّ النَّبِيِّ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ حِيْنَ دَخَلَهُ، وَلٰكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتلایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے اندر نماز نہیں پڑھی، البتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے تو بیت اللہ کے دروازے کے پاس نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث: «أِسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 9057، والطبراني: 18/ 743، وابويعلي: 6733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3505»

الحكم على الحديث:
أِسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4594
عَن ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلّٰي فِي الْبَيْتِ۔ قَالَ: وَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ: لَمْ يُصَلِّ فِيْهِ، وَلٰكِنَّهُ كَبَّرَ فِيْ نَوَاحِيْهِ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے کونوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4594]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 397، 1167، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15637»
وضاحت: فوائد: … سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتلایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھی تھی، اس بنا پر انھوں نے بھی یہی دعوی کیا تھا، نیز صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کونوں میں دعا وغیرہ کی، لیکن نماز نہیں پڑھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4595
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: صَلَّي رَسُوْلُ اللّٰهِ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4595]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15823»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4596
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِيْ وَ هُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَ هُوَ حَزِيْنٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّكَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِيْ وَ أَنْتَ قَرِيْرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ، وَ رَجَعْتَ وَ أَنْتَ حَزِيْنٌ؟ فَقَالَ: إِنِّيْ أَخَافُ أَنْ أَكُوْنَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِيْ مِنْ بَعْدِيْ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں سکون تھا اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے، لیکن جب واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمزدہ تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے توآپ کی آنکھوں میں سرور تھا اور آپ کی طبیعت خوشگوار تھی، لیکن اب آپ غمزدہ ہو کر لوٹے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ڈر لگ رہا ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دینے والا کام کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4596]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2029، والترمذي: 873، وابن ماجه: 3064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4597
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيْقٍٍ ثَانٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَ دِدْتُ أَنِّيْ لَمْ أَفْعَلْهُ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَأَخْشٰي أَنْ يَجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الآفَاقِ فَلا يَسْتَطِيْعُ دُخُولَهُ، فَيَرْجِعُ وَ فِيْ نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْئٌ۔
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج میں نے ایک فعل سر انجام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا ہے، میں بیت اللہ میں داخل ہوا ہوں، اب مجھے ڈر یہ ہے کہ ایک آدمی کسی افق (دور کے علاقہ) سے آئے گا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکے گا تو وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے نفس میں بے چینی سی ہو گی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4597]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128»
وضاحت: فوائد: … جب بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ احساس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو سنت سمجھ کر اس کی رغبت کریں گے، اس طرح ہجوم بڑھے گا، اس سے کسی کو تکلیف ہو گی اور کسی کو موقع ہی نہ مل سکے گا، سو وہ اس سنت کے رہ جانے کی وجہ سے بے چین ہو جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل نہ ہوتے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4598
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِيْ؟ فَقَالَ: أَرْسِلِي إِلٰي شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ: مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَيْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: صَلِّي فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَيْتِ حِيْنَ بَنَوْهُ وفي لفظ صَلِّي فى الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْت فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیں نہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4598]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه دون قوله صلي في الحجر فان قومك استقصروا عن بناء البيت حين بنوه۔ فھو حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 7094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27978»
وضاحت: فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه دون قوله صلي في الحجر فان قومك استقصروا عن بناء البيت حين بنوه۔ فھو حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں