الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4599
عَن ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، فَعَلا فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ، أَوْ شَرَفًا، قَالَ: اَللّٰه أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أكْبَرُ، لا اِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ، وَ هُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ، آيِبُوْنَ تَائِبُونَ سَاجِدُوْنَ عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ، وَ نَصَرَ عَبْدَهُ، وَ هَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَهُ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ … وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔) [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6835، ومسلم: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3256»
وضاحت: فوائد: … لشکروں سے مراد غزوۂ خندق میں جمع ہونے والے دشمنانِ اسلام کے لشکر ہیں، اور اس کو عموم پر محمول کرنا بھی ممکن ہے، یعنی اس سے مراد کفر کے لشکر ہیں، وہ جہاں بھی ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6835
حدیث نمبر: 4600
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّي حِيْنَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِهِ قَافِلاً فِي تِلْكَ الْبَطْحَائِ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم الْمَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ عَلَي بَابِ مَسْجِدِهِ، ثُمَّ دَخَلَهُ فَرَكَعَ فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَي بَيْتِهِ۔ قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُاللّٰهِ بْنُ عُمَرَ كَذٰلِكَ يَصْنَعُ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25942»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں جس سنت کا ذکر ہے، وہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے:
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4601
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَتَلَقَّى الْحَاجَّ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُوا
۔ حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ادائیگی ٔ حج سے واپس آنے والوں سے ملاقات کرنے کے لیے نکلا، ہم ان پر سلام کرتے قبل اس کے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے میلے ہوں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6018»
وضاحت: فوائد: … بہرحال احادیث سے ثابت ہے کہ ادائیگی ٔ حج سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کسی کی نیکیوں کی وجہ سے اس سے ملاقات کرنا باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك
حدیث نمبر: 4602
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو حاجی کو ملے تو اس پر سلام کہہ اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے یہ مطالبہ کر کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے بخشش کی دعا کرے، کیونکہ اس وقت وہ بخشا ہوا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، محمد بن الحارث الحارثي، وعبد الرحمن ابن البيلماني ضعيفان، ومحمد بن عبد الرحمن البيلماني ضعيف ايضا، بل قال عنه البخاري: منكر الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5371»
وضاحت: فوائد: … بہرحال نیک لوگوں سے دعا کروانا مشروع عمل ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا