الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي الْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيٍ
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 4721
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ وَهُوَ يَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَهَا قَالَ فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً
۔ سیدنا حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ مجھے یہ علم نہیں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گھر والوں پر ہے کہ وہ ایک بکری ہر ماہِ رجب میں ذبح کریں اور ایک بکری عید الاضحی کے موقع پر کریں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4721]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الكريم، قال النسائي والدارقطني: متروك، وحبيبُ بن مخنف مجھول، أخرجه عبد الرزاق: 8001، والطبراني: 20/ 740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21010»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الكريم
حدیث نمبر: 4722
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ
۔ سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ ہوتا کیا ہے؟ یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4722]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21011»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4723
عَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ فِي رَجَبٍ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا وَنُطْعِمُ مِنْهَا مَنْ جَاءَنَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ فَقَالَ وَكِيعٌ لَا أَدَعُهَا أَبَدًا
۔ سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہم رجب میں جانور ذبح کرتے تھے، ان سے خود بھی کھاتے تھے اور اپنے پاس آنے والوں کو بھی کھلاتے تھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ وکیع راوی کہتے ہیں: میں کبھی بھی اس عمل کو نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4723]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجھول الحال، أخرجه النسائي: 7/17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16303»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4724
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فَرَعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ مِنَ الْخَمْسَةِ وَاحِدَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرع کے بارے میں حکم دیا کہ وہ پانچ بکریوں میں سے ایک بکری ہو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عثمان مختلف فيه، وقد تفرد به، أخرجه عبد الرزاق: 7997، والبيھقي: 9/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25035»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4725
عَنْ يَحْيَى بْنِ زُرَارَةَ السَّهْمِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ قَالَ مَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّةٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السُّهْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ
۔ سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حجۃ الوداع کے موقع پر ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی عضباء اونٹنی پر تھے، میں گھوم کر دوسری طرف سے آیا، مجھے یہ امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے مخصوص دعا کریں، اس لیے میں نے پھر کہا: آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب لوگوں کو معاف کر دے۔ پھر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرع اور عتیرہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے وہ فرع ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے، اسی طرح جو چاہے عتیرہ ذبح کر لے اور جو چاہے نہ کرے اور بکریوں میں قربانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے خون اور مال تم پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4725]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 1742، والنسائي: 7/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16068»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4726
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا فَرَعَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں عتیرہ ہے نہ فرع۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5474، ومسلم: 1976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7135»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5474
حدیث نمبر: 4727
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالْفَرَعُ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ وَالْعَتِيرَةُ ذَبِيحَةُ رَجَبٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی فرع ہے اور نہ کوئی عتیرہ۔ ابن شہاب نے کہا: فرع سے مراد پیدا ہونے والا وہ پہلا جانور ہے جو جاہلیت والے لوگ ذبح کرتے تھے اور رجب کے ذبیحہ کو عتیرہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10361»
وضاحت: فوائد: … فرع اور عتیرہ کی جائز صورتیں بھی ہیں اور ناجائز بھی، تفصیل درج ذیل ہے:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10361