الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ الْأَمْرِ بِالْعَقِيقَةِ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 4728
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعِقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَأَمَرَنَا بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم عقیقہ میں بچی کی طرف سے ایک بکری اور بچے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کریں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر پانچ بکریوں میں سے ایک بکری بطورِ فرع ذبح کریں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث: «حديث العقيقة صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، أخرج حديث العقيقة ابن ماجه: 3163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25764»
وضاحت: فوائد: … شَاۃ کے لفظ کا اطلاق دو جنسوں پر ہوتا ہے، بکری اور بھیڑ، اس لیے عقیقہ میں بکرا، بکری، بھیڑ اور دنبہ میں کوئی جانور ذبح کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث العقيقة صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4729
عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ قَالَ الْمِثْلَانِ
۔ سیدہ ام بنی کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ہے۔ راوی کہتاہے: میں نے عطاء سے کہا: الْمُکَافَأَتَان سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ایک جیسی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4729]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2835،و ابن ماجه: 3162،والنسائي: 7/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27916»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4730
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَقِيقَةُ حَقٌّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ
۔ سیدہ اسماء بنت ِ یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عقیقہ حق ہے، بچے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28134»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4731
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعْتُ مِنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّتِي تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ وَذَهَبْتُ أَطْلُبُ مِنَ اللَّحْمِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا قَالَتْ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا
۔ سیدام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جبکہ میں گوشت لینے کے لیے گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری، اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: پرندے کو اس کی جگہ پر بیٹھنے دیا کرو۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله اقروا الطير علي مكناتھا، أخرجه أبوداود: 2835،و ابن ماجه: 3162،والنسائي: 7/ 164(27139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27680»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ پرندوں کے ذریعے بری یا اچھی فال نہ نکالا کرو۔ اس کی صورت یہ تھی کہ جب کوئی آدمی کسی کام کو سرانجام دینے کا ارادہ کرتے تو وہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا، اگر وہ دائیں طرف اڑتا تو اس کو وہ اپنی کامیابی کی علامت سمجھ کر کام شروع کر دیتا، لیکن اگر وہ اس کی بائیں جانب اڑ جاتا تو اس کو ناکامی کی علامت سمجھ کر کام کو ترک کر دیتا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله اقروا الطير علي مكناتھا
حدیث نمبر: 4732
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23446»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4733
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى قَالَ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ
۔ سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کے ساتھ عقیقہ ہوتا ہے، پس تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے تکلیف کو دور کرو۔ ابن سیرین نے کہا: اگر تکلیف کو دور کرنے سے مراد سر کو مونڈنا نہیں ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4733]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16348»
وضاحت: فوائد: … امام عطاء کہتے ہیں:
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5472