🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. بَابُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْأَسْمَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا
حرام اور مکروہ نام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4777
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ قَالَ أَبِي سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے برا نام، جس پر روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں شرمندگی ہو گی، یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مَلِکُ الْاَمْلَاک (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلوائے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6206، ومسلم: 2143، وأبوداود!:4961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7325»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کو عجز وانکساری بہت پسند اور فخر و غرور اور تکبر سخت ناپسند ہے، بادشاہوں کا بادشاہ کہلانے میں عاجزی کے بجائے تکبر کا اظہار ہے۔ علاوہ ازیں یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اس سے دوسروں کو متصف کرنا کسی لحاظ سے مستحسن نہیں ہے۔ امام مبارکپویؒ نے کہا: امام حمیدی نے اَخْنَعُ کا معنی سب سے زیادہ ذلیل کیا ہے اور امام سفیان نے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ کا معنی شاہانِ شاہ بیان کر کے یہ تنبیہ کی ہے کہ حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ صرف لفظ مَلِکُ الْاَمْلَاکِ منع ہے، بلکہ جو لفظ ایسے معنوںپر مشتمل ہو گا، وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس حدیث کی روشنی میں اس کا استعمال مخلوق کے لیے منع ہو گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سخت وعید ہونے کی وجہ سے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ نام رکھنا حرام ہے اور اس لفظ پر قیاس کرتے ہوئے خَالِقُ الْخَلْق، اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن، سُلْطَانُ السَّلَاطِیْن اور اَمِیْرُ الْاُمَرَائِ نام رکھنا بھی ممنوع ہے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اسما، اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے مخلوق کو ان کے ساتھ موسوم نہیں کیا جا سکتا، جیسے رحمن، قُدُّوس، جَبّار۔ (تحفۃ الاحوذی)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4778
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے مبغوض ترین اور خبیث ترین شخص وہ ہو گا، جو اپنے آپ کو مَلِکُ الأَمْلاک کہلواتا ہے، حالانکہ کوئی بادشاہ نہیں ہے، ما سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4778]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8161»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2143
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4779
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٌ قَالَ جَابِرٌ لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ هَاهُنَا بَرَكَةُ فَيُقَالُ لَا وَيُقَالُ هَاهُنَا يَسَارٌ فَيُقَالُ لَا قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو ان ناموں سے منع کر دوں گا، برکت، یسار اور نافع۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس چیز کا مجھے علم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رافع نام کا ذکر کیا تھا یا نہیں، ان ناموں سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ برکت ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، اسی طرح جب پوچھا جاتا ہے کہ یسار ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ناموں سے منع کیے بغیر فوت ہو گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بعد میں اس ارادے کو ترک کر دیا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4779]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14661»
وضاحت: فوائد: … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ناموں سے واقعی منع کر دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2138
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ قَالُوا لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چار کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں: لا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، تو جس کلمے سے مرضی شروع کر دے، اس سے کوئی نقص نہیں ہو گا، تو اپنے بچے کا نام افلح، نجیح، یسار اور رباح نہ رکھ، کیونکہ جب تو پوچھے گا کہ فلاں ہے، فلاں یہاں ہے تو اس کے موجود نہ ہونے کی صورت میں لوگ کہیں گے: نہیں۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار کلمات ہی ہیں، اس سے زیادہ مجھ سے بیان نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4780]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20507»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2137
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4781
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَمِّيَ رَقِيقَكَ أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ أَفْلَحَ وَيَسَارًا وَنَافِعًا وَرَبَاحًا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تو اپنے بچے کا نام ان چار ناموں میں سے رکھے، افلح، یسار، نافع اور رباح۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4781]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20400»
وضاحت: فوائد: … ان ناموں کے معانی یہ ہیں: رباح: نفع۔ افلح: فلاح پانے والا۔ یسار: خوشحالی۔ نجیح: کامیاب ہونے والا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20400
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں