الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. بَابُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْأَسْمَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا
حرام اور مکروہ نام
حدیث نمبر: 4777
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ قَالَ أَبِي سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے برا نام، جس پر روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں شرمندگی ہو گی، یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مَلِکُ الْاَمْلَاک (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلوائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6206، ومسلم: 2143، وأبوداود!:4961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7325»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کو عجز وانکساری بہت پسند اور فخر و غرور اور تکبر سخت ناپسند ہے، بادشاہوں کا بادشاہ کہلانے میں عاجزی کے بجائے تکبر کا اظہار ہے۔ علاوہ ازیں یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اس سے دوسروں کو متصف کرنا کسی لحاظ سے مستحسن نہیں ہے۔ امام مبارکپویؒ نے کہا: امام حمیدی نے اَخْنَعُ کا معنی سب سے زیادہ ذلیل کیا ہے اور امام سفیان نے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ کا معنی شاہانِ شاہ بیان کر کے یہ تنبیہ کی ہے کہ حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ صرف لفظ مَلِکُ الْاَمْلَاکِ منع ہے، بلکہ جو لفظ ایسے معنوںپر مشتمل ہو گا، وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس حدیث کی روشنی میں اس کا استعمال مخلوق کے لیے منع ہو گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سخت وعید ہونے کی وجہ سے مَلِکُ الْاَمْلَاکِ نام رکھنا حرام ہے اور اس لفظ پر قیاس کرتے ہوئے خَالِقُ الْخَلْق، اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن، سُلْطَانُ السَّلَاطِیْن اور اَمِیْرُ الْاُمَرَائِ نام رکھنا بھی ممنوع ہے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اسما، اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے مخلوق کو ان کے ساتھ موسوم نہیں کیا جا سکتا، جیسے رحمن، قُدُّوس، جَبّار۔ (تحفۃ الاحوذی)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6206
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4777 in Urdu