🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4833
حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَهْلِهِ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ قَالَ نَعَمْ سَبَقُونِي بِغَدْوَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ لوگ تجھ سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4833]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد،وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15707»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر اطاعت ِ رسول کی اہمیت بیان کرنے کے لیے یہ حدیث بیان کی جاتی ہے، لیکن یہ ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4834
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبْلِغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ فَقَالَ لَهَا أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ قَالَتْ مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طُوِّقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ میں ان کی نماز کی اقتدا کرتے ہوئے نماز پڑھتی تھی اور وہ جو نیک عمل کرتے تھے، میں بھی اس کو سرانجام دیتی تھی، اب آپ مجھے ایسا عمل بتائیں، جو مجھے ان کے عمل کے درجے تک پہنچا دے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ طاقت رکھتی ہے کہ قیام کرتی رہے اور وقفہ نہ کرے، روزے رکھتی رہے اور افطار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے اور اس میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے، یہاں تک کہ تیرا خاوند لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تجھے اس کی طاقت ہوتی بھی تو تب بھی تو اپنے خاوند کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچ پاتی، یہاں تک وہ لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15718»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی اچھی خوبیوں کو اپنائیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4835
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے والے اجر کو نہیں پا سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4835]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج بن ارطاة، والحكمُ بن عتيبة لم يسمع من مقسم، أخرجه الترمذي: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1966»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4836
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَئِمْتُ الْخَيْلَ وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا قُلْتُ لَا قِتَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ يَرْفَعُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَرْزُقُهُمُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17090»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ سب سے زیادہ خیر و برکت والا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جہاد کی بنیاد رکھی اس کی فتوحات اور فوائد کی بڑی مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آئیں۔ اصل مرکز شام دیگر روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرب ِ قیامت شام کا علاقہ مومنین کے لیے فتح کا مقام ہو گا، ایک حدیث درج ذیل ہے، اس حدیث میں گویا اشارہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے فتنوں کے دور میں شام امن اور سلامتی کی جگہ ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں