الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4863
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4863]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14924»
وضاحت: فوائد: … سواریوں کی قلت ہونے کی وجہ سے اونٹ کا مالک بھی دوسرے مجاہدین کی طرح صرف اپنی باری پر سواری کرتا تھا، یہ وہ پاکیزہ نفوس تھے، جو دوسروں کی ضروریات کو اپنی حاجات پر ترجیح دیتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4864
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ النَّاقَةَ عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يُغْنَمُ حَتَّى إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّيشَ
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کیا اور کہا: ہم میں سے ایک آدمی حاصل ہونے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لیتا تھا، یہاں تک (بسااوقات ایسے ہوتا کہ) ہم میں سے ایک آدمی کو تیر کی لکڑی ملتی اور دوسرے کو پھلکا اور پر ملتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4864]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال شيبان بن امية،وقد اختلف فيه علي عياش بن عباس القتباني، أخرجه النسائي: 8/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17119»
الحكم على الحديث: ضعیف