الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. وَعِيْدُ مَنْ تَرَكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
راہِ خدا میں جہاد کو ترک کر دینے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 4866
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَتَبَايَعُوا بِالْعِينَةِ وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَرَكُوا الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِهِمْ بَلَاءً فَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْهُمْ حَتَّى يُرَاجِعُوا دِينَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ درہم و دینار کے سلسلے میں بخل کریں گے، بیع عِینہ میں پڑ جائیں گے، گائیوں کی دموں کی پیروی کریں گے اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش نازل کر دے گا اور اس کو اس وقت تک نہیں ہٹائے گا، جب تک وہ اپنے دین کی طرف نہیں لوٹ آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4866]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن ابي رباح لم يسمع من ابن عمر، أخرجه أبوداود: 3462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4825»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود کی سند صحیح ہے، اس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے نفس میں جہاد کرنے کا سوچا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8852»
وضاحت: فوائد: … اس سے جہاد کی اہمیت واضح ہے، نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو کفر اور کفار کے خلاف دل میں بغض رکھنا اور یہ جذبہ رکھنا چاہیے کہ جب بھی جہاد کا مرحلہ پیش آیا تو میں جان و مال کی قربانی سے گریز نہیں کروں گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4868
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنُ قَالُوا وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمُ الْقِتَالَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وَھَن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور قتال کو ناپسند کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4868]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 4297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8698»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی کمزوری کے جو دو اسباب بیان کیے، دورِ حاضر کا مسلم معاشرہ ان ہی دو چیزں کا اسیر بن کر رہ گیا ہے، دنیا سے اس قدر محبت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات تک کا خیال نہیں رکھا جاتا، رہا مسئلہ قتال کو ناپسند کرنے کا تو گزارش ہے کہ اکثر و بیشتر مسلمانوں کا رویہ یہی بن چکا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح