🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ جَوَازِ الْحَدَاعِ فِي الْحَرْبِ بِالتَّوْرِيَةِ وَالْكِثْمَانِ وَإِرْسَالِ الْجَوَاسِيْسِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4940
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْحَرْبَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ خُدْعَةً قَالَ رَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر لڑائی کا نام دھوکہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4940]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 494، وابن ابي شيبة: 12/ 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 696»
وضاحت: فوائد: … لڑائی کو اس اعتبار سے دھوکہ قرار دیا گیا ہے کہ اظہار کسی اور چیز کا کیا جاتا ہے، جبکہ مخفی بات اور ہوتی ہے۔ لیکن جس دھوکے سے عہد و امان توڑا جا رہا ہو، وہ ناجائز ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4941
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمَّى الْحَرْبَ خُدْعَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑائی کو دھوکے کا نام دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4941]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3029، ومسلم: 1740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8097»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4942
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4942]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوعوانة: 4/ 81، والبخاري في التاريخ الكبير: 6/ 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13375»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4943
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خُدْعَةٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4943]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3030، ومسلم: 1739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14226»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4944
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ اسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ أَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی غزوے کا ارادہ کرتے تو توریہ کرتے ہوئے کسی اور چیز کا اظہار کرتے، یہاں تک کہ غزوۂ تبوک کا موقع آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید گرمی میں یہ جنگ لڑی تھی، دور کا سفر کرنا تھا، ہلاکت گاہوں سے گزرنا تھا اور دشمنوں کی کثیر تعداد سے مقابلہ کرنا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر ان کا معاملہ واضح کر دیا، تاکہ دشمن کے مطابق تیاری کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرف جانا تھا، اس کی واضح طور پر خبر دے دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4944]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15882»
وضاحت: فوائد: … توریہ: ارادہ کی ہوئی چیز کا اس طرح اظہار کرنا کہ حقیقت مخفی رہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4945
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب غزوۂ خندق کے موقع پر معاملے میں شدت آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو ہمیں بنوقریظہ کے حالات سے مطلع کرے؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چلے اور ان کے حالات سے آگاہ کیا، پھر جب معاملے میں مزید سختی پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہی بات ارشاد فرمائی، (آگے سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی جواب دیا)، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4945]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2847، 2997، ومسلم: 2415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14428»
وضاحت: فوائد: … حواری سے مراد سنگین حالات میں منتخب اور خاص معاون و مددگار ہے، اس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی منقبت ہے، کافروں کی جاسوسی کرنا درست ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4946
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ قَالَ لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بُسیسہ کو بطورِ جاسوس بھیجا، تاکہ وہ دیکھیں کہ ابو سفیان کے قافلے کا کیا بنا ہے، پس جب وہ لوٹے تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں تھا، ثابت راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ راوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویوں کا استثنا کیا تھا یا نہیں، بہرحال سیدنا بُسیسہ نے حالات سے آگاہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ہم نے کوئی چیز تلاش کرنی ہے، جس کے پاس سواری موجود ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ان کی سواریاں مدینہ منورہ کے بالائی حصے میں ہے (جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، لہذا ان کا انتظار کیا جائے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہی آ جائیں، جن کے پاس سواریاں موجود ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ چل پڑے اور مشرکوں سے پہلے بدر میں پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4946]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12425»
وضاحت: فوائد: … یہ ابوسفیان کا تجارتی قافلہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قافلے پر حملے کا پروگرام بنایا اور مسلمان اس نیت سے مدینہ سے چل پڑے، ابو سفیان کو بھی اس امر کی اطلاع ہو گئی، چنانچہ انھوں نے ایک تو اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور دوسرے، مکہ اطلاع بھجوا دی،جس کی بنا پر ابو جہل ایک لشکر لے کر اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے بدر کی جانب چل پڑا، پھر فریقین میں بدر کی لڑائی ہوئی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں