الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ جَوَازِ الْحَدَاعِ فِي الْحَرْبِ بِالتَّوْرِيَةِ وَالْكِثْمَانِ وَإِرْسَالِ الْجَوَاسِيْسِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4945
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب غزوۂ خندق کے موقع پر معاملے میں شدت آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو ہمیں بنوقریظہ کے حالات سے مطلع کرے؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چلے اور ان کے حالات سے آگاہ کیا، پھر جب معاملے میں مزید سختی پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہی بات ارشاد فرمائی، (آگے سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی جواب دیا)، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4945]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2847، 2997، ومسلم: 2415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14428»
وضاحت: فوائد: … حواری سے مراد سنگین حالات میں منتخب اور خاص معاون و مددگار ہے، اس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی منقبت ہے، کافروں کی جاسوسی کرنا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2847
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4945 in Urdu