🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا أَوْ شَرَطَ عَلَيْهِ خِدمَتَهُ وَحُكْم مَنْ مَلِكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ أَوْ أَعْتَقَ مَالَمْ يَمْلِك
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا¤مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5261
عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقید ِ حیات رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3932، وابن ماجه: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22272»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت میں یہ بات زائد بھی ہے، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِی عَلَیَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِی وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ۔ اگر تم مجھ پریہ شرط نہ لگاؤ، تب بھی جب تک میں زندہ رہوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیںہوں گا، پھر انھوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر یہ شرط بھی لگائی۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5262
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5262]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 4949،والترمذي: 1365، وابن ماجه: 2524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20429»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5262M
عَنْهُ بِالسَّنَدِ الْأَوَّلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ
۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5262M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20467»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی آدمی مَحرم رشتہ دار کو بطورِ غلام خرید لیتا ہے تو وہ ایسا رشتہ دار خود بخود آزاد ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20467
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5263
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5263]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7143»
وضاحت: فوائد: … آزاد کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کی آزاد ی کا سبب بنے، کیونکہ جب ایسے باپ کو خریدا جائے گا تو خود بخود آزاد ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5264
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں آدمی پر کوئی طلاق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس چیز میں کوئی آزادی نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی سودا نہیں ہے، جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5264]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه أبوداود: 2190،والترمذي: 1181، وابن ماجه: 2047، والنسائي: 7/288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6769»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں