🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ حُكْمِ مَنْ أَعْتَقَ شِرَكًا لَهُ فِي عَبْدِ أَوْ كَانَ يَمْلِكُ عَبْدًا فَاعْتَقَ بَعْضَهُ
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ¤آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5265
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ قِيمَةَ عَدْلٍ فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حَقَّهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو، تو ایسے غلام کی انصاف کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی اور اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے بقدر وہ قیمت ادا کر کے غلام پر آزادی کا حکم لگا دیا جائے گا، وگرنہ وہ شخص جتنا حصہ آزاد کرے گا، اتنا ہی اس غلام حصہ آزاد ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2522، ومسلم: 1501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5920»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2522
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5266
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي إِنْسَانٍ أَوْ مَمْلُوكٍ كُلِّفَ عِتْقَ بَقِيَّتِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُعْتِقُهُ بِهِ فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس آدمی کو اس غلام کی ساری قیمت کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ سارے غلام کو آزاد کر سکے تو اتنا حصہ تو آزاد ہو جائے گا، جتنا وہ کرے گا۔ ‘ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5266]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5474»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5474
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5267
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةٌ لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمیوں کا مشترک غلام ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر وہ آزاد کنندہ مالدار ہوا تو اس پر غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی، جس میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ زیادتی اور پھر اس کو آزاد کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5267]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2521، ومسلم: 3/ 1287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4589»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2521
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ شِقْصٌ فِي مَمْلُوكٍ فَأَعْتَقَ نِصْفَهُ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کو سارے غلام کو آزاد کروانا پڑے گا، بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہوا تو غلام کو اپنی قیمت پوری کرنے کے لیے کمائی کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس ضمن میں اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2492، 2527، ومسلم: 1503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7462»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو سارے غلام کی آزادی اسی کے مال سے ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5269]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 3939، والترمذي باثر الحديث: 1348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10111»
وضاحت: فوائد: … تو غلام کو کمائی کرنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا، …۔ اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱) غلام کو یہ موقع دیا جائے گاکہ وہ کمائی کرے، تاکہ دوسرے ساجھی کے حصے کی قیمت بنا لے اور پھر اس کو دے کر آزاد ہو جائے۔ (۲) غلام کا جتنا حصہ آزاد نہیں ہوا، وہ اس حصے کے بقدر دوسرے آقا کی خدمت کرے گا، مثلا اگر وہ آدھاآزاد کر دیا گیا ہے تو وہ دوسرے مالک کی نصف دن تک خدمت کرے گا، باقی نصف دن وہ آزاد آدمی کی حیثیت سے گزارے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5270
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جب آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آزادی کا حکم دے دیا اور اس کی باقی قیمت اسی آدمی پر لازم قرار دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5270]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 3934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8546»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5271
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلَ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ حُرٌّ كُلُّهُ لَيْسَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَرِيكٌ
۔ ابو ملیح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے ایک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سارے کا سارا آزاد ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5271]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20985»
وضاحت: فوائد: … دوسری روایات میں وضاحت ہے کہ جس آدمی نے اپنا حصہ آزاد کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقی قیمت بھی اس کے ذمہ قرار دی تھی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5272
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ لَهُمْ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ طَهْمَانُ أَوْ ذَكْوَانُ فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نِصْفَهُ فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُعْتَقُ فِي عِتْقِكَ وَتُرَقُّ فِي رِقِّكَ قَالَ وَكَانَ يَخْدِمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ حَوْشَبٍ رَجُلًا صَالِحًا
۔ امیہ کا دادا سیدنا عمرو بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان لوگوں کو طہمان یا ذکوان نامی ایک غلام تھا، دادا نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ حصہ نصف غلام تھا، جب وہ غلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تو اپنی آزادی کے بقدر آزاد ہو چکا ہے اور اپنی غلامی کے بقدر ابھی تک غلام ہے۔ پھر وہ اپنے مالک کی خدمت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ عبد الرزاق راوی نے کہا: معمر بن حوشب نیک آدمی تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5272]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن حوشب الصنعاني لايعرف حاله، أخرجه الطبراني في الكبير 5517، والبيھقي: 10/ 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15477»
وضاحت: فوائد: … فوت ہونے والے سے مراد غلام بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مالک بھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5273
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَفِظْنَا عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ضَمِنَ بَقِيَّتَهُ
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے تیس صحابہ سے یہ بات یاد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، وہ باقی قیمت کا بھی ضامن ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5273]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، أخرجه ابن ابي شيبة: 6/ 483، والبيھقي: 10/ 283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16531»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5274
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو سارے غلام کی آزادی اس پر ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث: «صحيح بشاھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی آدمی کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس مکمل غلام کو آزاد کرنے کا مال ہے تو اسی کے مال سے غلام کو آزاد کر دیا جائے گا، تاکہ وہ مکمل فضیلت حاصل کر لے۔

الحكم على الحديث:
صحيح بشاھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں