الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
حدیث نمبر: 5348
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَحَمَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف پایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا۔ جب وہ جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور سواری دے دی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ مجھے سواری نہیں دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں قسم اٹھاتا ہوں کہ تم کو ضرور ضرور سواری دوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار 1344، وابويعلي: 3835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12079»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5349
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک چیز پر قسم اٹھائی، لیکن بعد میں کسی اور چیز میں خیر دیکھی تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5349]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8719»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1650
حدیث نمبر: 5350
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ فَإِنَّهُ أَثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أَمَرَ بِهَا
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل کے معاملے میں کوئی قسم اٹھائے اور (بزعم خود) سچا بنتا پھرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت گنہگار ہو گا، اس کفارہ سے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5350]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6625، ومسلم: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7729»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6625
حدیث نمبر: 5351
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَاَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ أَثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب کوئی آدمی اپنے اہل کے معاملہ میں کوئی قسم اٹھاتا ہے اور (اس قسم کے بہانے اڑا رہتا ہے) تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ گنہگار ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا کفارہ ادا کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5351]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8193»
وضاحت: فوائد:حافظ ابن حجر نے کہا: آثَم کا معنی اشدّ تأثیما ہے …۔ اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنے اہل و عیال سے متعلقہ ایسی قسم اٹھاتا ہے کہ اس کو پورا کرنے کی صورت میں ان کو تکلیف ہوتی ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔ اگر وہ کہے کہ وہ گناہ سے بچنے کے لیے قسم نہیں توڑے گا، تو وہ گنہگار ہو گا، بلکہ اس کا ایسی قسم پر برقرار رہنے اور اپنے اہل کے لیے تکلیف کا باعث بننے کا گناہ قسم توڑنے سے زیادہ ہو گا … بیضاوی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنی یہ ہے کہ جب آدمی اپنے اہل سے متعلقہ امور میں قسم اٹھاتا ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاتا ہے (اور یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اہل کو اس قسم کی وجہ سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو) اس کا یہ گناہ قسم توڑنے کے گناہ سے زیادہ ہو گا، کیونکہ اس نے اپنی قسم کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کو حیلہ بنا لیا ہے، حالانکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔(فتح الباری: ۱۱/۶۳۷)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8193