الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَاب مَا يُذْكَرُ فِيمَنْ نَذَرَ الصَّدْقَةَ بِمَالِهِ كُلِّهِ
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
حدیث نمبر: 5383
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2950، 3889، 4676، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27717»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میںنذر کی وضاحت تو نہیں ہے، لیکن جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے قبولیت ِ توبہ کی وجہ سے
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2950
حدیث نمبر: 5384
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ
۔ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرے توبہ قبول ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں اوراپنے مال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس کے بیچ سے نکل جاؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال کا صدقہ تجھ سے کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5384]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان وذكره ابن حبان في الثقات وقال: يروي عن ابيه المراسيل، ثم ان في الاسناد اضطرابا، أخرجه ابوداود: 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف