الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب النهي عَنِ النَّدْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدْرِ
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
حدیث نمبر: 5385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5385]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6694، ومسلم: 1640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7295»
وضاحت: فوائد: … بخیل آدمی نذر کی وجہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وگرنہ اس کا بخل اس پر غالب رہتاہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6694
حدیث نمبر: 5386
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يَسْتَخْرِجُ مِنَ الْبَخِيلِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: بیشک یہ کسی چیز کو مقدم نہیں کرتی، البتہ بخیل سے کچھ مال نکال لیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5386]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7207»
وضاحت: فوائد: … نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1640
حدیث نمبر: 5387
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کا ردّ نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5387]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9964»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9964
حدیث نمبر: 5388
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 5388]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6608، 6693، ومسلم: 1639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5275»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ شَیْئًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: یہ تقدیر کے کسی معاملے کو پیچھے نہیںکر سکتی، بس اس کے ذریعے تو بخیل سے کچھ مال نکال لیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6608