🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5496
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ حِينَ يُمْسِي اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح یا شام کو یہ ذکر کیا: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی … … لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! تو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں‘ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں‘ پس تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)، پھر وہ اسی دن یا رات کو فوت ہو گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5496]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5070، وابن ماجه: 3872، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23401»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5497
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ مَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
۔ سیدناشداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سید الاستغفار یہ ہے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی، … … فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوب إِلَّا أَنْتَ،(اے اللہ! تو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں‘ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں‘ پس تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)۔ جو آدمی یقین کے ساتھ صبح کو یہ دعا پڑھے گا اور پھر اسی دن وفات پائے گا تو وہ جنتی لوگوں میں سے ہوگا، اور جو آدمی یقین کے ساتھ شام کو یہ دعا پڑھے گا اور پھر اسی رات کو فوت ہو جائے گا تو وہ جنتی لوگوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5497]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17260»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6323
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5498
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبِحُ وَفِي لَفْظٍ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ ابو سلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد ِ حمص میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، لوگوں نے کہا: اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ہے، پس یہ سن کر میں اٹھا اور اس سے سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو اور تیرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی صبح کو اور شام کو تین بار یہ ذکر کرتا ہے: رَضِیتُ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، (میں اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر راضی ہوں) تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو روزِ قیامت راضی کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5498]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 5072، وابن ماجه: 3870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23499»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5499
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبَحَ وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں تھوڑی سی تفصیل یوں ہے: تین بار صبح کے وقت کہے اور تین بار شام کے وقت [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5499]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23500»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23500
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5500
عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے: أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْإِسْلَامِ، وَعَلٰی کَلِمَۃِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَی دِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَعَلٰی مِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ۔ (ہم نے صبح کی ہے فطرتِ اسلام پر، کلمۂ اخلاص پر، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر، اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5500]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 10175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15437»
وضاحت: فوائد: … فطرت ِ اسلام سے مراد دینِ اسلام ہے، کلمۂ اخلاص سے مراد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔ حنیف (یکسو) اس مسلمان کو کہتے ہیں جو تمام دوسرے ادیان سے بے رخی اختیار کر کے دینِ حق کی طرف مائل ہو جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5501
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِذَا أَمْسَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ مِنَ الْمُشْرِکِیْن کے بعد یہ الفاظ بھی روایت کیے ہیں: اور جب ہم شام کرتے تو اسی طرح کہتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الدعائ: 293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21462»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صبح کے وقت دعا ء کے شروع میں اَصْبَحْنَا اور شام کے وقت اَمْسَیْنَا کہا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَارَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ
۔ عبد اللہ بن قاسم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پڑوسن نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طلوع فجر کے وقت یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتی تھی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی َٔعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔(اے اللہ! میں قبر کے عذاب اور قبر کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22684»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5503
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى اللَّيْلِ وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاء ِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے)، جس نے صبح کے وقت یہ دعا تین بار پڑھی تو ان شاء اللہ رات تک اس کو اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی، اسی طرح جس نے شام کو یہ عمل کیا تو صبح تک ان شاء اللہ اس کو کوئی اچانک مصیبت نہیں پہنچے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5503]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه أبوداود: 5089، والترمذي: 3388، وابن ماجه: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 528»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5504
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے: أَمْسَیْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ(ہم نے شام کی اور اللہ تعالیٰ کے ملک نے شام کی، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر وہی، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4192»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2723
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5505
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ(اے اللہ! ہم نے تیری توفیق سے صبح کی، تیری توفیق سے شام کی، تیری توفیق سے زندہ ہیں، تیری توفیق سے مریں گے اور تیری طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 5068، والترمذي: 3391، وابن ماجه: 3868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10773»
وضاحت: فوائد: … أبوداود اور ترمذی کی روایت میں یہ زائد بات بھی ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کرتے تو یہ دعا اس طرح پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ النُّشُوْرُ۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں