الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب مَا يَقُولُ وَيَفْعَلُ مَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِحَاجَةٍ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ الْانْتِبَاءِ مِنَ النَّوْمِ أَثْنَاءَ اللَّيْلِ وَعِنْدَ التَّيَقْطِ مِنْهُ فِي آخِرِهِ
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
حدیث نمبر: 5549
عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ لِيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے بستر پر آئے تو وہ اپنے ازار کے پلّو کو کھینچے اور اس کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوا ہے، پھر وہ دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا حَفِظْتَ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔ (اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6320، ومسلم: 2714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9450»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ بستر میں کوئی موذی جانور پڑا ہو اور کسی نقصان یا پریشانی کا سبب بن جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5550
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُ اسْتُجِيبَ لَهُ فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى تُقُبِّلَتْ صَلَاتُهُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو بیدار ہو اور یہ ذکر کرے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ پھر کہے: رَبِّ اغْفِرْ لِی۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جائے گی اور اگر عزم کرکے وضو کر لیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5550]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23049»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5551
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا فَارْقُدْ وَقَالَ مَرَّةً يَضْرِبُ عَلَيْهِ بِكُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا قَالَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے ایک کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے: بڑی لمبی رات پڑی ہے، سویا رہے، راوی نے ایک بار یوں کہا: وہ ہر گرہ پر طویل رات تک تھپکی دیتا رہتا ہے، لیکن جب آدمی بیدار ہو کراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے اور اس طرح جب وہ صبح کرتا ہے تو وہ طیب النفس، ہشاش بشاش اور خوشگوار ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ وہ خبیث النفس اور سست ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5551]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1142، ومسلم: 776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7306»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں بیداری کے وقت ذکر کرنے، وضو کرنے اور نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5552
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا
۔ سیدنا جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مردو زن کے سرپر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے، جب بندہ سوتا ہے تو اس پر تین گرہیں لگائی جاتی ہیں، لیکن جب وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5552]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن خزيمة: 1133، وابن حبان: 2554، وابويعلي: 2298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14440»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5553
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى وَإِذَا نَامَ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ اور جب سوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ(اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5553]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18804»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5554
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ نَمُوتُ وَنَحْیَا(اے اللہ! ہم تیرے نام کے ساتھ فوت ہوتے ہیں اور پھر زندہ ہوں گے)۔ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5554]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21693»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5555
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَمِنًا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانِي بَعْدَمَا أَمَاتَنِي وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایانِ شان بھی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے بھی ایسے ہی تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بستر پر آتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ (اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: (ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6312، 6324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23675»
الحكم على الحديث: صحیح