الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطْرِ وَسِمَاعِ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ وَرُويَةِ الهَلال
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 5562
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5099، وابن ماجه: 3889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26087»
وضاحت: فوائد: … قوم ہود کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب)ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴، ۲۵)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5563
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا (اے اللہ! اس کو خوشگوار بارش بنا دے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25486»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5564
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5564]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولجھالة حال ابي مطر، أخرجه الترمذي: 3450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5763»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5565
عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5565]
تخریج الحدیث: «حسن لشواھده، أخرجه الترمذي: 3451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1397»
وضاحت: فوائد: … دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پورے ماہ کے لیے سعادت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے دوام کا سوال کیا ہے، کیونکہ ہر ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی روشنی میں مختلف فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کسی کے رزق میں کمی آتی ہے، کسی کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، کسی پر آزمائشیں پڑتی ہیں، کسی کو خوشی کے اسباب ملتے ہیں، کوئی شرّ میں آگے نکل جاتا ہے، کسی کو خیر نصیب ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورے ماہ کے لیے امن و سلامتی کا سوال کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5566
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ وَمِنْ سُوءِ الْحَشْرِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، … وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5566]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبادة، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23177»
الحكم على الحديث: ضعیف