الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ الْحَقِّ عَلَى الدُّعَاءِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ و آدابِهِ وَأَنَّهُ يَنْفَعُ لَا مَحَالَةَ
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان¤کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
حدیث نمبر: 5582
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللَّهِ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی چیز کی تیاری، تقدیر سے فائدہ نہیں دیتی، البتہ دعا ان امور میں فائدہ دیتی ہے، جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5582]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، وھو لم يسمع معاذ ايضا، وابنُ عياش روايته عن غير اھل بلده ضعيفة، وھذا منھا، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22394»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5583
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور کوئی چیز تقدیر کو ردّ نہیں کر سکتی، ما سوائے دعا کے اور صرف نیکی ہی ہے، جو عمر میں اضافہ کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5583]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله: إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ، وھذا اسناده ضعيف، عبد الله بن ابي الجعد في عداد المجھولين، ثم يغلب علي الظن انه لم يسمع من ثوبان، أخرجه ابن ماجه: 90، 4022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22802»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی کثرت سے اعمال صالحہ سر انجام دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو کئی گنا اجر عطا کرتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اس آدمی نے طویل عمر پائی، کیونکہ اس نے اتنا عمل کر لیا کہ جس کے لیے لمبی عمر درکار ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5584
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے، یا پھر اس دعا کے بقدر اس سے بری چیز کو ٹال دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5584]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23167»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5585
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا قَالُوا إِذًا نُكْثِرُ قَالَ اللَّهُ أَكْثَرُ
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان ایسی دعا کرتا ہو، جس میں گناہ او رقطع رحمی والی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین میں سے ایک چیز عطا کرتا ہے، یا اس کی دعا جلدی جلدی قبول کر لی جاتی ہے، یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، یا اس کے بقدر اس آدمی سے بری چیز کو دور کر دیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر ہم بہت زیادہ دعا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5585]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه البزار: 3144، وابن ابي شيبة: 10/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11150»
وضاحت: فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے کہ بندہ جو کچھ مانگ رہا ہے، اس کو وہی کچھ عطا کر دیا جائے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کا خالص عمل ضائع نہیں کرتا اور بدلہ ضرور دیتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5586
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ [غافر: 60]
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ} … اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کوقبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ (سورۂ غافر: ۶۰) (سورۂ غافر کو سورۂ مومن بھی کہتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5586]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18576»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5587
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز نہیں ہے، جو دعا سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ عزت والی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5587]
تخریج الحدیث: «اسناده قابل للتحسين، أخرجه الترمذي: 3370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8733»
وضاحت: فوائد: … دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت ِ کاملہ اور بندے کی عجز و انکساری کا اظہار ہوتا ہے، دعا کے ذریعے بندہ یہ اظہار کرتا ہے کہ دینے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ تو صرف مانگنے والا اور سوال کرنے والا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5588
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5588]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9717»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الدُّعَائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ)) ثُمَّ قَرَأ: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ} (مؤمن: ۶۰)، (صحیحہ: تحت رقم: ۲۶۵۴) یعنی: دعا، عبادت ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کوقبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5589
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی سوال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے چہرے کو گاڑھ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر صورت میں عطا کرتا ہے، یا تو جلدی دے دیتا ہے، یا اس کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5589]
تخریج الحدیث: «حسن لغير، أخرجه الحاكم: 1/ 497، والبيھقي في الشعب: 1126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9784»
وضاحت: فوائد: … مطلب یہ ہوا کہ مسلمان کی دعا کے ضائع ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5590
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحْيِي أَنْ يَبْسُطَ الْعَبْدُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ فِيهِمَا خَيْرًا فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے لیے اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ دراز کرتا ہے تو وہ اس سے شرماتا ہے کہ ان کو خالی واپس کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5590]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 497، والبيھقي في الاسماء والصفات: ص 484، واحمد في الزھد: ص 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24115»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت یہاں تو موقوف ہے، لیکن یہ مرفوعاً بھی ثابت ہے، جیسا کہ ابن حبان (۸۸۰)، حاکم (۱/ ۵۳۵) اور معجم کبیر (۶۱۳۰) میں ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ قبولیت کے اوقات میں کثرت سے دعا کرے، فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5591
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جیسے میرے بندے کا میرے بارے میںگمان ہوتا ہے، میں ویسے ہی اس کے ساتھ پیش آتا ہوں، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5591]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 3232، والطبراني في الدعائ: 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13224»
الحكم على الحديث: صحیح