الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5701
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَإِنِّی أَعُوذُ بِکَ … … وَالْہَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ (اے اللہ! پس بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے، قبر کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، غِنٰی کے فتنے کے شرّ سے، فقیری کے فتنے کے شرّ سے، میں تیری پناہ پکڑتا ہوں دجال مسیح کے فتنے سے، اے اللہ میرے گناہوں کو دھو ڈال برف اور اولوںکے پانی سے اور میرے دل کو غلطیوں سے ایسے پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے مابین اس طرح دوری کر دے، جیسے تو نے شرق و غرب کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! پس بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی سے، انتہائی بڑھاپے سے، گناہ سے اور چٹی سے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5701]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6368، ومسلم: 589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24805»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6368
حدیث نمبر: 5702
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ قَالَ وَكِيعٌ فِتْنَةُ الصَّدْرِ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَذَكَرَ وَكِيعٌ الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخیلی، بزدلی، عذابِ قبر، ذلیل ترین عمر اور سینے کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔ امام وکیع نے کہا: سینے کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس نے مذکورہ برائیوں میں سے کسی کاارتکاب کیا ہو، لیکن ابھی تک توبہ نہ کی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5702]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 1539، والنسائي: 8/255، وابن ماجه: 3844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 388»
وضاحت: فوائد: … سینے کے فتنے سے مراد دل کی سختی اور دنیا کی محبت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5703
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَسُوءِ الْعَمَلِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بخیلی، بزدلی، سینے کا فتنہ، عذابِ قبر اور برا عمل۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5703]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 145»
وضاحت: فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سُوء ِ الْعملِ کے الفاظ کاتب کی غلطی ہے، کیونکہ ابو داود کی روایت میں سُوء ِ الْعُمُرِ‘ ‘ کے الفاظ ہیں، اسی طرح ابو دواد کی ایک روایت میں،ابن ماجہ کی روایت میں اورمذکورہ بالا حدیث کے پہلے طریق والی روایت میں اَرْذَلِ الْعُمُر کے الفاظ ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 145