🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5691
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ هَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا أَوْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا أَوْ ہَمًّا أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا، أَوْ أَنْ یَتَخَبَّطَنِی الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ غم، یا ھَمّ کی وجہ سے، یا غرق ہو کر مروں، یا شیطان موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے، یا میں ڈنگ لگنے کی وجہ سے مروں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5691]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابراهيم بن اسحق، قال البخاري: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك، أخرجه ابويعلي: 6612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8652»
وضاحت: فوائد: … غم اور ھَمّ میں کیا فرق ہے؟

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5692
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّئِ الْأَسْقَامِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں برص سے، جنون سے، کوڑھ سے اور بری بیماریوں سے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 1554، والنسائي: 8/270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13035»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ قَالَ سُفْيَانُ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بدبختی کے پانے سے، دشمنوں کی خوشی سے، برے فیصلے سے یا مشقت میں ڈالنے والے فیصلے سے۔ امام سفیان کہتے ہیں: ان میں سے ایک چیز مجھ سے زیادہ ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ علم نہیں ہے کہ وہ کون سی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6347، ومسلم: 2707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7349»
وضاحت: فوائد: … اس جگہ جعد القضائ کے الفاظ ہیں جن کے معانی ترجمہ میں کیے گئے ہیں، جبکہ بخاری ومسلم میں ہے: جہد البلائ اس کا معنی ہے: آزمائش کی مشقت۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6347
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5694
عَنْ أَبِي الْيَسَرِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَالتَّرَدِّي وَالْهَرَمِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا
۔ سیدنا ابو یسر سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُبِک … … وَأَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں گرنے والی دیوار یا مکان کے نیچے آ جانے سے، بلند جگہ سے گرنے سے، انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم سے، غرق سے، جلنے سے، اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس چیز سے کہ شیطان میری موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے اور اس سے کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیرتے ہوئے قتل کر دیا جاؤں اور اس سے کہ ڈس دئیے جانے کی وجہ سے میں مر جاؤں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5694]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابوداود: 1552، والنسائي: 8/282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15609»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5695
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَبَصَرِي وَقَلْبِي وَمَنِيِّي
۔ سیدناشکل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں کہ میں جس سے نفع حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو:اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِی وَبَصَرِی وَقَلبِیْ وَمَنِیِّیْ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے کان، آنکھ، دل اور منی کے شرّ سے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5695]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1551، والنسائي: 8/ 260، والترمذي: 3492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15626»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5696
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شرک سے بچو، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی مخفی ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکیں گے، جبکہ وہ چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو:اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔ (اے اللہ! بیشک ہم اس چیز سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائیں کہ جس کو ہم جانتے ہیں اور تجھ سے اس چیز کی بخشش چاہتے ہیں، جس کو ہم نہیں جانتے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5696]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي علي الكاھلي، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 337، والطبراني في الاوسط: 3503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19835»
وضاحت: فوائد: … شرک کی دو قسمیں ہیں: (۱) شرک ِاکبر،جس سے کفر لازم آتا ہے۔ (۲) شرکِ اصغر، اس سے مراد ریاکاری ہے۔ اس حدیث میں شرک اصغر سے منع کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي علي الكاھلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5697
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا طَمَعَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے شدید حرص سے پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ عیب اور عار کی طرف لے جاتی ہے، اس شدید حرص سے بھی پناہ طلب کرو، جو بعید الحصول چیز کی طرف لے جاتی ہے اور ایسے مقام کی طمع سے پناہ طلب کرو، جہاں (حسّی یا شرعی طور پر) طمع کی ہی نہ جا سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5697]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الاسلمي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22371»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الاسلمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5698
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قُلْتُ أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ وَفِي لَفْظٍ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ وَفِي لَفْظٍ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي
۔ فروہ بن نوفل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتائیں، ممکن ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکاروں اور اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ، (اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں، جو میں نے کیا ہے اور اس کام کے شرّ سے بھی، جو میں نے نہیں کیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْہٗ نَفْسِیْ۔ (اے اللہ! میں اس کام کے شرّ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جو کام میرے نفس نے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5698]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26900»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2716
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5699
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَزِعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَفَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَدَدْتُ يَدِي فَوَقَعَتْ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ایک رات کو گھبرا گئی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، پس میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر لگا، وہ گڑھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، … أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری (رحمت کی) پناہ چاہتا ہوں تیرے (عذاب) سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5699]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24816»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 486
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5700
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، لَا أُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِک (اے اللہ! میں تیری رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں تیرے غصے سے، تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں تیری سزا سے، تیری پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے، جیسے تو نے اپنے نفس کی خود ثنا بیان کی ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5700]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه أبوداود: 1427، والنسائي: 3/248، وابن ماجه: 1179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1295»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں