الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ أَفْضَلِ الْكَسَبِ الْبَيْعُ وَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَ مِنْهُ كَسْبُ وَلَدِهِ
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
حدیث نمبر: 5729
عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ فَقَالَ بَيْعٌ مَبْرُورٌ وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ
۔ جمیع بن عمیر اپنے ماموں (سیدناابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر ذریعہ معاش کون سا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیع مبرور اور آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5729]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 2/ 10، والبيھقي: 5/ 263، والبزار: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15930»
وضاحت: فوائد: … بیع مبرور سے مراد وہ تجارت ہے جس میں کوئی شبہ اور خیانت نہ ہو، ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنے سے مراد کھیتی باڑی اور صنعت و ہنر وغیرہ ہے۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره ۔ أخرجه الحاكم: 2/ 10
حدیث نمبر: 5730
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ قَالَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: آدمی کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مبرور تجارت۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5730]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 2/ 10، والبيھقي: 5/ 263، والبزار: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17397»
الحكم على الحديث: حسن لغيره ۔ أخرجه الحاكم: 2/ 10
حدیث نمبر: 5731
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاسِطًا يَدَيْهِ يَقُولُ مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا لَهُ وَفِي لَفْظٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا: اس دنیا میں سب سے زیادہ بہتراور (ایک روایت کے الفاظ) اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ کھانا ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5731]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17322»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2072
حدیث نمبر: 5732
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ
۔ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ چیز وہ ہے، جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5732]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1701، 1702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24636»
الحكم على الحديث: أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1701
حدیث نمبر: 5733
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد بھی تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھایا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5733]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24636»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24636
حدیث نمبر: 5734
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو فنا کرنا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، سب سے بہتر چیز وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے، پس اس کو خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5734]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6678»
وضاحت: فوائد: … آخری تین احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتے ہیں، لیکنیہ حکم علی الاطلاق نہیں ہے، درج ذیل بحث پر توجہ کریں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُور} (الشوری:۴۹) فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) ”بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب بھی تمھیں ضرورت پڑے۔“
(مستدرک حاکم:۲/۲۸۴،بیھقی:۷/۴۸۰، صحیحہ:۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر
بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
امام البانیk لکھتے ہیں: ”اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔“ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا پھرے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (الصحیحہ: ۲۵۶۴)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُور} (الشوری:۴۹) فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) ”بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب بھی تمھیں ضرورت پڑے۔“
(مستدرک حاکم:۲/۲۸۴،بیھقی:۷/۴۸۰، صحیحہ:۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر
بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
امام البانیk لکھتے ہیں: ”اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔“ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا پھرے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (الصحیحہ: ۲۵۶۴)
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6678