الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَطَاءِ السُّلْطَانِ وَكَسْبِ عُمَّالِ الصَّدَقَةِ باب مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 5735
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا قَالَ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ عُمَرُ فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ
۔ عبداللہ بن سعدی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کو لوگوں کے امور پر مامور کیا جاتا ہے، پھر جب آپ کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو، کیا بات ایسے ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے تمہارا مقصد کیا ہے؟اس نے کہا: میں گھوڑوں اور غلاموں کامالک اور مال والا ہوں، میری خواہش یہ ہے کہ میری یہ خدمت مسلمانوں کے لیے صدقہ قرار پائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا مت کرو، میں نے بھی تمہاری طرح کا ارادہ کیا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز مجھ سے زیادہ ضرورت مندکودے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ یہ لے لو اور اس کو اپنا مال بنا لو اور صدقہ کرو، اس طرح کا جو مال کسی طمع اور سوال کے بغیر مل جائے تو اس کو لے لیا کرو اور اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5735]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7163، ومسلم: 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 100»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7163
حدیث نمبر: 5736
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السَّلَاطِينَ فَقَالَ مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَكُلْهُ وَتَمَوَّلْهُ قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا وَيُشْرِفْ لَهَا
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سلاطین کے مال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: ان سے جو مال اللہ تعالی تجھے سوال اور لالچ کے بغیرعطا کر دے، تو اس کو کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: (بادشاہوں کا) وہ مال لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کے لیے نہ آدمی کو جانا پڑتا ہے اور نہ وہ اس کی لالچ میں رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5736]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28108»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں اربابِ حکومت کے قریب رہنے والوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ دنیوی مال و زر تک رسائی حاصل کر لیں،یہ مقصد درست نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلطان کے اس تحفے کو جائز قرار دے رہے ہیں، جس کی لینے والے کو کوئی لالچ اور حرص نہ ہو۔“
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5737
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ
۔ سیدنا رافع بن حذیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضائے الہی کی خاطر اور حق کے ساتھ صدقہ وخیرات کی وصولی کرنے والا عامل اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اہل والوں کی طرف لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5737]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2547، والترمذي:584، وابن ماجه: 1799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15920»
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 2547
حدیث نمبر: 5738
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيَتَوَسَّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ
۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو لالچ اور سوال کے بغیر رزق میسر آ جائے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے رزق میں ملا کر مزید وسعت پیدا کرے، پس اگر وہ خود اس سے غنی ہو تو اپنے سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5738]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 30، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20924»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 30
حدیث نمبر: 5739
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالی بن مانگے رزق عطا کر دے تو وہ اسے قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اشراف یعنی مال کی لالچ کرنے سے کیا مراد ہے، انھوں نے کہا: تیرا اپنے نفس میں یہ خیال رکھنا کہ فلاں آدمی میری طرف فلاں چیز بھیجے گا، عنقریب مجھے فلاں چیز موصول ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5739]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20925»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20925
حدیث نمبر: 5740
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صدقہ وخیرات کی وصولی پر مامور فرمایا، جب میں نے (اس خدمت کے دوران) زکوۃ کے مال سے کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5740]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17442»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 5741
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ لَيْسَ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی مسلمانوں کی مصالح سے متعلقہ امور میں مصروف ہو، وہ ان کے مالوں میں سے اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جیسے بیوی، خادم، گھر یا سواری وغیرہ، لیکن اس ضمن میں حکومتییا پرائیویٹ ادارے کی طرف سے دی گئی رخصت کے مطابق یہ سہولتیں حاصل کی جائیں گی، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے، وگرنہ وہ ملازم خائن اور دھوکے باز ٹھہرے گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2945
حدیث نمبر: 5742
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَالَ مُجَالِدٌ هُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ وَفِي لَفْظٍ لَا حَاجَةَ لِي فِي عَمَلِكَ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى
۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوں کہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17869»
وضاحت: فوائد: … ارشادِباری تعالی ہے: {وَمَنْ یَّغْلُلْیَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ} … ”جوخیانت کرے گا،وہ روزِ قیامت اس چیز کے ساتھ آئے گا، جو اس نے خیانت کی ہو گی۔“ (سورۂ آل عمران: ۱۴۱)
معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔
معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1833
حدیث نمبر: 5743
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا قَالَ بَلْ نَفْسٌ أُحْيِيهَا قَالَ عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6639»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے تھے کہ آپ ان کو زکوۃ کی وصولی پر مقر ر کریں تاکہ اس کے عوض ان کو جو اجرت ملے گی، اس سے ان کی معیشت کوسہارا مل جائے گا، مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بنو ہاشم میں سے تھے اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لیے صدقہ اور زکوۃ حرام تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات سمجھانے کے لیے تمہید کے طور نفس کے زندہ کرنے یا اس کو مارنے کی بات کی، کیونکہ اگر سیدہ حمزہ کو زکوۃ کا عامل مقرر کر دیا جاتا تو گویا اس میں ان کے نفس کی موت تھی، کیونکہ حرام رزق کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سرے سے عبادات ہی قبول نہیں ہوتیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري