🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ مَا جَاءَ فِي اِتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَ بَرَكَتِهَا وَرَعِيهَا
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5751
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ وَتَغْدُو بِخَيْرٍ
۔ سیدنا ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام ہانی! بکر یاں پالو، کیونکہ یہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح کو خیر کے ساتھ جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26902 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
وضاحت: فوائد: … بکریاں عجیب قسم کی خیر و برکت پر مشتمل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنتی جانور قرار دیاہے، ان کے ہاں سال میں دو بار پیدائش کا سلسلہ ہوتا ہے، دو دو تین تین بچے جنم دیتی ہیں، ان کے مزاج میں عاجزی اور نرمی ہوتی ہے، ان میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ بالکل نہیں ہوتا اور ان کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے، معمولی غذا ان کے لیے کافی ہو جاتی ہے، جب چاہا ان کا دودھ دوہ لیا، ان کا گوشت انتہائی عمدہ ہوتا ہے، جبکہ ان کو ذبح کرنا اور گوشت بنانا بہت آسان ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ بکری خرگوش اور ہرن کی طرح بڑی خوبصورت اور محبت والی چیز نظر آتی ہے، مزید اگلی روایت کا بغور مطالعہ کر لیں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2295
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5752
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ غُنَيْمَةً لِي قَالَ نَعَمْ امْسَحْ رُعَامَهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَانْتَسِئْ بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطْرِ قَالَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میرے باپ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: کہا ں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی میری کچھ بکریاں ہیں (ان کی طرف جارہا ہوں) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن ان کو صاف ستھرا کرنا، ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا، کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے، نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سر زمین کم بارش والی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد ان شاء الله۔ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/933، والبزار: 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9623»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ علاقے کی آب و فضا کے مطابق پالتو جانوروں کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز ان کے باڑے آرام دہ ہونے چاہئیں، نماز پڑھنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالک بکریوں کے ساتھ رہے گا اور اس طرح درندوں سے امن رہے گا۔

الحكم على الحديث: صحيح بالشواھد ان شاء الله۔ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/933
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5753
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ مسلمان آدمی کے لئے بہترین مال بکریاں ہوں، جن کو وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں چلا جائے اور فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3600، 6495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11046»
وضاحت: فوائد: … فتنوں کے زمانے میں دین کی سلامتی کے لیے آبادی سے دور چلا جانا مستحب ہے، بشرطیکہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ ہو۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5754
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہوں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر پیلو کا پھل چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگت والا چنو، یہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3406، 5453، ومسلم: 2050، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14551»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5755
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ
۔ سیدنا ابوسعید حذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں او نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5755]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11940»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ کی ایک نشیبی جگہ کا یا ایک پہاڑ کا نام جیاد ہے۔
حافظ بن حجر نے کہا کہ خطابی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں کی مذمت اس بنا پر کی کہ یہ لوگ امورِ دینیہ سے غافل ہو کر اپنے مال مویشیوں میں لگے رہتے ہیں، جس کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ سخت دل ہو جاتے ہیں۔
حافظ صاحب نے خود کہا: سکینت کو بکریوں کے مالکوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وسعت اور کثرت میں اونٹوں کے مالکوں سے کم ہوتے ہیں، اور یہی دو چیزیں فخر اور تکبر کا باعث بنتی ہیں۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۳۳، ۴۳۴)
یہ اللہ تعالی کا کوئی نظام ہے کہ جو فرق بکری اور اونٹ میں ہے کہ بکری شریف اور غیر مضرجانور ہے اور اونٹ باغی اور مضر جانور ہے، ان جانوروں کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2370
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں