🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِّرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5744
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5744]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15939»
وضاحت: فوائد: … کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5745
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5745]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12523»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5746
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدہ ام مبشررضی اللہ عنہا، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5746]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج نحوه مسلم: 1552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5747
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5747]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج نحوه مسلم: 1552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5748
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5748]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد العزيز الليثي۔أخرجه الطبراني: 3968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23917»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد العزيز الليثي۔أخرجه الطبراني : 3968
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5749
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میں جلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28055»
وضاحت: فوائد: … اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5750
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ أَوِ الْعَافِيَةُ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16674»
وضاحت: فوائد: … اَلْعَافِیۃ کا اطلاق ہر اس جاندار پر ہوتا ہے، جو رزق طلب کرنے والا ہو، وہ انسان ہو، یا جانور، یا پرندہ، نیز ا س لفظ کا اطلاق جماعت پر بھی ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4134
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں