🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَسْبِ الْعَشَارِينَ وَأَصْحَابِ الْمَكْسِ وَالْعُرَفَاءِ وَنَحْوِهِمْ
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5770
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى كِلَابِ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ مَا يُجْلِسُكَ هَاهُنَا قَالَ اسْتَعْمَلَنِي هَذَا عَلَى هَذَا الْمَكَانِ يَعْنِي زِيَادًا فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَى قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ لِدَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ فَيَقُولُ يَا آلَ دَاوُدَ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَشَّارٍ فَرَكِبَ كِلَابُ بْنُ أُمَيَّةَ سَفِينَةً فَأَتَى زِيَادًا فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ
۔ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ کا کلاب بن امیہ کے پاس سے گزر ہوا، وہ بصرہ میں ٹیکس وصول کرنے والے کی نشست پر بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: اے کلاب یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا:مجھے زیاد نے (ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اس علاقے پر عامل مقرر کیا ہے، انھوں نے کہا: کیا میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سنا سکتا ہوں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنائیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات کے وقت ایک وقت کو خاص کر رکھا تھا، اس میں وہ اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ہوئے کہتے: اے آل داؤد! اٹھو اور نماز اداکرو، یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، ایک جادو گر اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔ یہ حدیث سنتے ہی کلاب بن امیہ کشتی پرسوار ہوکر زیاد کے پاس پہنچے اور اس ملازمت سے معذرت کی اور اس نے معذرت قبول کر لی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5770]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16390»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5771
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ عَرَضَ مَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدٍ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرَ عَلَى رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُوَلِّيَهُ الْعُشُورَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَاحِبُ الْمَكْسِ فِي النَّارِ
۔ ابوالخیر سے روایت ہے کہ مصر کے امیر مسلمہ بن مخلد نے سیدنا رو یفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ درخواست پیش کی کہ وہ اس کو ٹیکسوں کا مسئول بنا دیں۔ لیکن انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹیکس لینے والادوزخی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5771]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17001 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17126»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4493
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5772
عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
۔ حرب بن ہلال کہتے ہیں کہ بنو تغلب کے ایک آدمی سیدنا ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پرکوئی ٹیکس نہیں ہے، ٹیکس تویہود ونصاری سے وصول کئے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5772]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ا بوداود: 3048، 3049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15992»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ا بوداود: 3048
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5773
عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَعْشُرُهَا فَقَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ
۔ (دوسری سند) حرب بن عبید اللہ ثقفِیْ اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کچھ چیزوں کا ذکرکیا، اس کے بعد میں نے کہا: کیا میں ٹیکس لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہودونصاری پر لاگو کیے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5773]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15991»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15991
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5774
- (وَمِنْ طَرِيقِ ثَالِثٍ) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْشِرُ قَوْمِي؟ قَالَ: ( (إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ) )
۔ (تیسری سند)بکر بن وائل اپنے ماموں سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں اپنی قوم سے ٹیکس لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس توصرف یہود و نصاری پرلگائے جاتے ہیں، اہل اسلام پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5774]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5775
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ يَعْنِي الْعَشَّارَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس لینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5775]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17426»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2937
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5776
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَتَاهِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا لَقِيتُمْ عَاشِرًا فَاقْتُلُوهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَصَّرَ عَنْ بَعْضِ الْإِسْنَادِ وَقَالَ يَعْنِي بِذَلِكَ الصَّدَقَةَ يَأْخُذُهَا عَلَى غَيْرِ حَقِّهَا
۔ سیدنا مالک بن عتا ہیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ٹیکس وصول کرنے والے کو ملو تو اس کو قتل کردو۔ (سند میں مذکور ایک راوی کے بقول) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ شخص ہے جو بغیر کسی حق کے یہ چیز وصول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5776]
تخریج الحدیث: «اسنادھما ضعيف من اجل ابن لھيعة فھو سييء الحفظ، ولجھالة مخيس ابن ظبيان، ولابھام شيخه۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18221»

الحكم على الحديث: اسنادھما ضعيف من اجل ابن لھيعة فھو سييء الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5777
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمُ الْعُشُورَ
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عرب کے لوگو! اس اللہ کی تعریف کیا کرو، جس نے تم سے ٹیکسوں کو اٹھا لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5777]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن المھاجر لين الحديث، والراوي عن عمرو بن حريث لا يعرف۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 197، وابويعلي: 964، والطحاوي في ’’شرح المعاني‘‘: 2/ 31، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1654»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5778
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمُ الْعُشُورَ
۔ سیدنا مقد ام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قدیم! تو کامیاب ہو جا ئے گا، بشرطیکہ تو نہ امیر بنے، نہ مال وصول کرنے والابنے اور نہ سردار بنے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5778]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف صالح بن يحيي بن المقدام۔ أخرجه ابوداود: 2933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1654»
وضاحت: فوائد: … سردار سے مراد قوم یا خاندان کا سردار اور منتظم ہے، اسلامی معاشرے کے قیام کے لیےیہ تینوں عہدے ضروری ہیں، لیکن ان عہدوں کے حقوق کو پورا کرنے والے بہت کم ہیں،یہی دیکھا گیا کہ امیر اور حکمران ظالم بن جاتا ہے، مال وصول کرنے والا خائن بن جاتا ہے اور سردار اپنی قوم کی شریعت کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اس طرح یہ تین قسم کے افراد انجام کے لحاظ سے خسارے میں چلے جاتے ہیں۔
اس باب میں ٹیکس اور اس کے وصول کنندہ کی مذمت کی گئی، ان کے بارے میںمزید روایاتیہ ہیں:
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو برابھلا کہا، جس کو بدکاری کی وجہ سے سنگسار کیا جا رہا تھا، جبکہ توبہ کرتے ہوئے برائی کا اعتراف اس نے خود کیا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا خَالِدُ! فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہٗ۔)) … خالد! رہنے
دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کر لے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ (مسلم: ۱۶۹۵)
امام نوویl نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلا کہ ٹیکس لینا قبیح ترین اور مہلِک گناہ ہے، کیونکہ ٹیکس وصول کنندہ بغیر کسی حق کے لوگوں سے بار بار ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے، جبکہ اس پر لوگوں کے مطالبات بڑھتے رہتے ہیں۔ (شرح مسلم نووی)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو بغیر کسی عوض اور حق کے لوگوں سے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۴۴۲)
سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تُفْتَحُ اَبْوَابُ السَّمَائِ نِصْفَ اللَّیْلِ، فَیُنَادِيْ مُنَادٍ: ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَیُسْتَجَابَ لَہُ، ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَیُعْطٰی،ھَلْ مِنْ مَکْرُوْبٍ فَیَفْرُجَ عَنْہُ، فَـلَا یَبْقیٰ مُسْلِمٌیَدْعُوْ بِدَعْوَۃٍ اسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ، اِلاَّ زَانِیَۃً تَسْعٰی بِفَرْجِھَا، اَوْعَشَّارًا۔)) … نصف رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک اعلان کرنے والا آواز لگاتا ہے: کوئی ہے پکارنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا کوئی ہے سوال کرنے والا کہ اس کو عطا کیا جائے اور کیا کوئی ہے تکلیف زدہ کہ اس کی تکلیف دور کر دی جائے۔ کوئی ایسا مسلمان نہیں ہوتا کہ وہ دعا کرے اور اللہ تعالی اس کی دعا قبول نہ کرے، مگر زانی عورت جو اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائی کرتی ہے اور ٹیکس وصول کنندہ (ان دو کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں)۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۸۸/ ۲، صحیحہ: ۱۰۷۳)
کسی کی رضامندی کے بغیر اس کا مال و دولت نہیں لیا جا سکتا، ٹیکس بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے، عصر حاضر میں تو ٹیکسز کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ مثلا: چھجہ ٹیکس، ڈرینج ٹیکس، انکم ٹیکس، ملبہ ٹیکس، ٹال ٹیکس، ہاؤس ٹیکس، وہیکل ٹیکس، وغیرہ وغیرہ۔ حکومت کا عوام الناس کی جائداد میں کوئی حق نہیں ہوتا، ہاں اگر لوگ گورنمنٹ کے اخراجات سے بنائی ہوئی کوئی چیز استعمال کر رہے ہوں اور اس کی مرمت پر حکومت کا خرچہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ٹیکس لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس، لیکنیہ ضروری ہے کہ ادا کی گئییہ رقم مسلمانوں کے بیت المال میں پہنچے۔
آجکل ٹیکسوں کی وصولی کی بھرمار نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے، بالخصوص جو بھاری ٹیکس تاجروں سے وصول کیا جاتا ہے، اس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس کا سارے کا سارے بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ حکومتی عہدیداران کو علم ہونا چاہیے کہ وہ کسی چیز کے عوض عوام سے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ رقم بیت المال میں جمع کروائی جائے یا حکومت کی تحویل میں دے دی جائے، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس۔ ٹیکسوں کی تمام اقسام جو کسی عوض کے بغیر وصول کی جاتی ہیں، ان کی وصولی حرام ہے، مثلا تاجروں اور صنعت کاروں سے ان کی تجارت اور صنعت کی وجہ سے ٹیکس وصول کرنا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں