🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء فى كسب العشارين وأصحاب المكس والعرفاء ونحوهم
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5778
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمُ الْعُشُورَ
۔ سیدنا مقد ام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قدیم! تو کامیاب ہو جا ئے گا، بشرطیکہ تو نہ امیر بنے، نہ مال وصول کرنے والابنے اور نہ سردار بنے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5778]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف صالح بن يحيي بن المقدام۔ أخرجه ابوداود: 2933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1654»
وضاحت: فوائد: … سردار سے مراد قوم یا خاندان کا سردار اور منتظم ہے، اسلامی معاشرے کے قیام کے لیےیہ تینوں عہدے ضروری ہیں، لیکن ان عہدوں کے حقوق کو پورا کرنے والے بہت کم ہیں،یہی دیکھا گیا کہ امیر اور حکمران ظالم بن جاتا ہے، مال وصول کرنے والا خائن بن جاتا ہے اور سردار اپنی قوم کی شریعت کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اس طرح یہ تین قسم کے افراد انجام کے لحاظ سے خسارے میں چلے جاتے ہیں۔
اس باب میں ٹیکس اور اس کے وصول کنندہ کی مذمت کی گئی، ان کے بارے میںمزید روایاتیہ ہیں:
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو برابھلا کہا، جس کو بدکاری کی وجہ سے سنگسار کیا جا رہا تھا، جبکہ توبہ کرتے ہوئے برائی کا اعتراف اس نے خود کیا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا خَالِدُ! فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہٗ۔)) … خالد! رہنے
دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کر لے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ (مسلم: ۱۶۹۵)
امام نوویl نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلا کہ ٹیکس لینا قبیح ترین اور مہلِک گناہ ہے، کیونکہ ٹیکس وصول کنندہ بغیر کسی حق کے لوگوں سے بار بار ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے، جبکہ اس پر لوگوں کے مطالبات بڑھتے رہتے ہیں۔ (شرح مسلم نووی)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو بغیر کسی عوض اور حق کے لوگوں سے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۴۴۲)
سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تُفْتَحُ اَبْوَابُ السَّمَائِ نِصْفَ اللَّیْلِ، فَیُنَادِيْ مُنَادٍ: ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَیُسْتَجَابَ لَہُ، ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَیُعْطٰی،ھَلْ مِنْ مَکْرُوْبٍ فَیَفْرُجَ عَنْہُ، فَـلَا یَبْقیٰ مُسْلِمٌیَدْعُوْ بِدَعْوَۃٍ اسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ، اِلاَّ زَانِیَۃً تَسْعٰی بِفَرْجِھَا، اَوْعَشَّارًا۔)) … نصف رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک اعلان کرنے والا آواز لگاتا ہے: کوئی ہے پکارنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا کوئی ہے سوال کرنے والا کہ اس کو عطا کیا جائے اور کیا کوئی ہے تکلیف زدہ کہ اس کی تکلیف دور کر دی جائے۔ کوئی ایسا مسلمان نہیں ہوتا کہ وہ دعا کرے اور اللہ تعالی اس کی دعا قبول نہ کرے، مگر زانی عورت جو اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائی کرتی ہے اور ٹیکس وصول کنندہ (ان دو کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں)۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۸۸/ ۲، صحیحہ: ۱۰۷۳)
کسی کی رضامندی کے بغیر اس کا مال و دولت نہیں لیا جا سکتا، ٹیکس بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے، عصر حاضر میں تو ٹیکسز کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ مثلا: چھجہ ٹیکس، ڈرینج ٹیکس، انکم ٹیکس، ملبہ ٹیکس، ٹال ٹیکس، ہاؤس ٹیکس، وہیکل ٹیکس، وغیرہ وغیرہ۔ حکومت کا عوام الناس کی جائداد میں کوئی حق نہیں ہوتا، ہاں اگر لوگ گورنمنٹ کے اخراجات سے بنائی ہوئی کوئی چیز استعمال کر رہے ہوں اور اس کی مرمت پر حکومت کا خرچہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ٹیکس لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس، لیکنیہ ضروری ہے کہ ادا کی گئییہ رقم مسلمانوں کے بیت المال میں پہنچے۔
آجکل ٹیکسوں کی وصولی کی بھرمار نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے، بالخصوص جو بھاری ٹیکس تاجروں سے وصول کیا جاتا ہے، اس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس کا سارے کا سارے بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ حکومتی عہدیداران کو علم ہونا چاہیے کہ وہ کسی چیز کے عوض عوام سے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ رقم بیت المال میں جمع کروائی جائے یا حکومت کی تحویل میں دے دی جائے، مثلا روڈ پر چلنے کا ٹیکس۔ ٹیکسوں کی تمام اقسام جو کسی عوض کے بغیر وصول کی جاتی ہیں، ان کی وصولی حرام ہے، مثلا تاجروں اور صنعت کاروں سے ان کی تجارت اور صنعت کی وجہ سے ٹیکس وصول کرنا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5778 in Urdu