الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5834
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ يُمَسُّ الثَّوْبُ وَفِي لَفْظٍ لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهُوَ طَرْحُ الرَّجُلِ الثَّوْبَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو صرف چھوا جائے اور اس کو (چیک کرنے کے لیے) دیکھا نہ جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع منابذہ سے بھی منع فرمایا ہے اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی سودا کر کے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے، قبل اس کے کہ وہ اس کو الٹ پلٹ کرے یا ا س کو دیکھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6284، ومسلم: 1512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11921»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6284
حدیث نمبر: 5835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فَذَكَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، (لباسوں کا ذکر دوسرے مقام پر کیاگیا ہے) دو تجارتیں یہ ہیں، ایک منابذہ اور دوسری ملامسہ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کہے: جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں گا تو سودا پکا ہو جائے گا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھوتا ہے، نہ وہ اس کو پہن کر چیک کرتا ہے اور نہ الٹ پلٹ کر کے، بس جب چھوتا ہے تو سودا پکا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5835]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11926»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11926
حدیث نمبر: 5836
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَى وَأَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلْقَاءُ الْحَجَرِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رہا مسئلہ دو تجارتوں کا تو ایک ملامسہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں: تو میری طرف ڈال دے اور میں تیری طرف ڈال دیتا ہوں اور دوسری تجارت پتھر کا ڈالنا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5836]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5476، وأخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8936»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ملامسہ، منابذہ اور پتھر ڈالنے کی بیع کا ذکر ہے، مؤخر الذکر سے مراد کنکری کے ذریعے کیا جانے والا سودا ہے، جس کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے۔ ملامسہ کی بنیاد چھونے پر اور منابذہ کی بنیاد پھینکنے پر ہے، دونوں دھوکے اور غرر پر مشتمل ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5476