🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ .
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5826
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل کے حمل کی تجارت سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5826]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري2256، 3843، ومسلم: 1514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5510»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري2256
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5827
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبْلِ حَبَلَةٍ وَحَبْلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهَا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچی یا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5827]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4640»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4640
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَقَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَبْتَاعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبْلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5828]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6437»
وضاحت: فوائد: … حَبْلَ الْحَبْلَۃِ (حمل کا حمل): اس کی تین مشہور تفسیریں ہیں: (۱)آدمی کا اس شرط پر اونٹنی خریدنا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا، جب اونٹنی بچہ جنے گی، پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ آگے ایک بچہ جنے گا۔ (۲) مادہ کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ پیدائش کے بعد جوان ہو کر جو بچہ جنے گا اس کی بیع کرنا۔ (۳) اس قیمت پر جانور دینا کہ یہ جو بچہ جنے گا، اس کا بچہ اس کو دینا ہو گا۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5829
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ أَيُّوبُ وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ إِلَّا بِكَيْلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکہ والی تجارت سے منع فرما دیاہے۔ ایوب کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے دھوکے والی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: غوطہ خور کی بیع دھوکے کا سودا ہے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع دھوکہ ہے، بھا گے ہوئے اونٹ کے سودے میں دھوکہ دہی ہے، چوپائیوں کے پیٹوں میں جوبچے ہیں، ان کی سودا بازی دھوکہ ہے، کانوں کی مٹی کا سودا دھوکے کا سودا ہے اور چوپائیوں کے تھنوں یعنی ان کے دودھ کا سودا بھی دھوکے پر مشتمل ہے، مگر ماپ کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5829]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره- أخرجه ابن ماجه: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2752»
وضاحت: فوائد: … غوطہ خور کی بیع سے مراد یہ ہے کہ غوطہ خور کسی آدمی سے کہے: میں اس غوطے میں جو کچھ باہر لاؤں گا، وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا، وہ مچھلی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی موتی وغیرہ بھی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره- أخرجه ابن ماجه: 2195
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5830
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَنْ بَيْعِ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوپائیوں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5830]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم، ومحمدِ بن زيد العبدي، ولضعف شھر بن حوشب، وجھضمُ اليمامي ثقة الا ان حديثه منكر فيما روي عن المجھولين، وھذا منھا- أخرجه الترمذي: 1563، وابن ماجه: 2196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11397»
وضاحت: فوائد: … درج بالا دونوں احادیث میں بیان کی گئی بیع کی اقسام میں دھوکہ پایا جاتا ہے، معلوم نہیں کہ بھاگا ہوا غلام یا اونٹ کیسا ہے اور وہ پکڑا بھی جائے گا یا نہیں، اسی طرح حاملہ جانوروں کے پیٹوں میں کیا ہے، وہ مذکر ہے یا مؤنث، اسی طرح تام الخلقت ہے یا ناقص الخلقت، علی ہذا القیاس۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5831
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5831]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابي عامر المزني وجھالة الشيخ من بني تميم- أخرجه ابوداود: 3382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 937»
وضاحت: فوائد: … لاچاروں کی تجارت کی دو صورتیں ہیں: (۱)بندے کو کوئی چیز خریدنےیا بیچنے پر مجبور کر دیا جائے، یہ بیع فاسد ہو گی اور منعقد نہیں ہو گی۔ (۲) بندے کو کسی قرضے یا کفالت کی وجہ سے بیع کرنا پڑے، مثلا قرض خواہ اپنے قرض دار سے کہے کہ تو نے مجھے جو قرضہ دیناہے، اس کے عوض مجھے فلاں چیز بیچ دے، اس صورت میں قرض خواہ کی مرضی چلے گی اور قرض دار کو خسارہ اٹھانا پڑے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5832
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ فَإِنَّهُ غَرَرٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی میں موجو د مچھلیوں کا سودا نہ کرو، کیو نکہ اس میں دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5832]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف اصح، يزيد بن ابي زياد الھاشمي الكوفي ضعيف، والمسيب بن رافع لم يسمع من ابن مسعود، ومحمد بن سماك واعظ مشهور مختلف فيه- أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10491، والبيھقي: 5/ 340، وابن ابي شيبة: 6/ 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3676»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5833
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالْكَسْبِ وَالْمَعَاشِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالتِّجَارَةِ/حدیث: 5833]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7405»
وضاحت: فوائد: … کنکری کی بیع کی کئی صورتیں ہیں: (۱)فروخت کنندہ، خریدار سے کہے: جب میں کنکری پھینکو ں گا تو تجارت طے ہوجائے گی۔ (۲) خریدار کہے: میں کنکری پھینکوں گا، وہ جس کپڑے کو لگ جائے گی، وہ اتنی قیمت میں میرا ہو جائے گا۔ (۳) اسی طرح ہر وہ سودا جہالت کی وجہ سے اسی قسم میں شامل ہو گا، جس کی بنیاد کنکری پر ہو گی، مثلا زمین کے سودے میں فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ وہ کنکری پھینکے گا، وہ جہاں تک پہنچے گی، اتنی زمین کا سودا اتنے میں ہو جائے گا، علی ہذا القیاس۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں