الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَاب صِحَةِ الْعَقْدِ مَعَ الشَّرْطِ الْفَاسِدِ
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q5915
فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَمَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُهَا لَهُمْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ انظر فتح الربانی: 2/2300
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جب انھوں نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ وَلاء ان کی ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خریدکر آزاد کر دو، وَلاء صرف اسی کی ہوتی ہے، جوآزاد کرتاہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الشُّرُوطِ فِي الْبَيْعِ/حدیث: Q5915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2155، 2565، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24554»
وضاحت: فوائد: … وَلاء ایک رشتہ اور تعلق ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں، وَلاء صرف آزاد کنندہ کا حق ہے اور یہ حق بھی نسب کی طرح کا ہے، اس لیے نہ اس کو فروخت یا ہبہ کیا جا سکتاہے اور نہ شرط کے ذریعے اصل مستحق کو محروم کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2155