الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ اشْتَرَاطِ مَنْفَعَةِ الْمَبِيعِ وَمَا فِي مَعْنَاهُ
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 5914
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ وَقَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَقَالَ ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتَكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ هُمَا لَكَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اونٹ پہ سوار ہو کر سفر کر رہا تھا، اچانک وہ تھک گیا، میں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اس کو ٹھوکر لگائی اور اس کے لیے دعا کی، پھر وہ ایسی چال چلاکہ کبھی بھی ایسی چال نہ چلاتھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ ایک اوقیے کے عوض مجھے فروخت کر دو۔ لیکن میں اس کا سودا کرنا ناپسند کر رہا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ پس میں نے بیچ تو دیا لیکن اپنے گھر والوں تک سواری کرنے کی شرط لگالی، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے کم قیمت لگا کر تیر ا اونٹ لینا چاہا ہے، یہ لو اپنا اونٹ اور یہ لو اس کی قیمت، دونوں چیزیں تمہاری ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الشُّرُوطِ فِي الْبَيْعِ/حدیث: 5914]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 5079، 5245، 5247، ومسلم: ص 1088، 1221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14244»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا تھا، لیکنیہ شرط لگائی تھی کہ وہ مدینہ منورہ تک اسی پر سفر کریں گے۔
الحكم على الحديث: أخرجه بنحوه البخاري: 5079
حدیث نمبر: 5915
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص غلام فروخت کرے اور غلام کے پاس مال ہوتو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا اور اس غلام کا قرض بھی اسی بائع کے ذمہ ہو گا، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الشُّرُوطِ فِي الْبَيْعِ/حدیث: 5915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14376»
وضاحت: فوائد: … اصل مسئلہ یہ ہے کہ تجارت کی ممنوعہ صورتوں اور شرطوں کا علم ہوناچاہیے، ہر وہ شرط جو شریعت کی کسی شق کی مخالفت نہیں کرتی اور جس سے شریعت نے منع نہیں کیا، وہ جائز ہو گی۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435