الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمِ الاحْتِكَارِ
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5941
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ وَأَيُّمَا أَهْلُ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمُ امْرُؤٌ جَائِعٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَعَالَى
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے چالیس راتیں ذخیرہ اندوزی کی، وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور جس گھر والوں کے پاس کوئی بھوکا آدمی ہو (اور وہ اسے کھانا نہ کھلائیں) تو ان سے بھی اللہ تعالی کی ضمانت اٹھ جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ أَحْكَامِ الْعُيُوبِ/حدیث: 5941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي بشر۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 6/ 104، وابويعلي: 5746، والحاكم: 2/ 11، والبزار: 1311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4880»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالی کے ہاں ایسے آدمی کی کوئی حرمت اور کرامت نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5942
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يَغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِئٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس ارادے سے ذخیرہ اندوزی کی کہ مسلمانوں کو مہنگائی میں مبتلا کر دیا جائے، تو وہ نافرمان ہو گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ أَحْكَامِ الْعُيُوبِ/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 2/ 12، والبيھقي: 6/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8602»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5943
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ
۔ سیدنا معمربن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خطاکارہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ سعید بن مسیب روغن زیتون (یا ہر قسم کا تیل) ذخیرہ کرلیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ أَحْكَامِ الْعُيُوبِ/حدیث: 5943]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15853»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5944
عَنْ أَبِي يَحْيَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَأَى طَعَامًا مَنْثُورًا فَقَالَ مَا هَذَا الطَّعَامُ فَقَالُوا طَعَامٌ جُلِبَ إِلَيْنَا قَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيهِ وَفِيمَنْ جَلَبَهُ قِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهُ قَدِ احْتُكِرَ قَالَ وَمَنِ احْتَكَرَهُ قَالُوا فَرُّوخُ مَوْلَى عُثْمَانَ وَفُلَانٌ مَوْلَى عُمَرَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ مَا حَمَلَكُمَا عَلَى احْتِكَارِ طَعَامِ الْمُصَلِّينَ قَالَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْإِفْلَاسِ أَوْ بِجُذَامٍ فَقَالَ فَرُّوخُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعَاهِدُ اللَّهَ وَأُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أَعُودَ فِي طَعَامٍ أَبَدًا وَأَمَّا مَوْلَى عُمَرَ فَقَالَ إِنَّمَا نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ قَالَ أَبُو يَحْيَى فَلَقَدْ رَأَيْتُ مَوْلَى عُمَرَ مَجْذُومًا
۔ مولائے عثمان فروخ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ، جو کہ اس وقت امیر المؤمنین تھے، مسجد کی طرف نکلے اور وہاں بکھراہوا اناج دیکھا اور پوچھا: یہ اناج کیسا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ اناج ہمارے لئے باہر سے لایا گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ اس میں اور اس کو لانے والے میں برکت ڈالے۔ اتنے میں کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ذخیرہ کیا ہوا مال ہے، انھوں نے پوچھا: کس نے اسے ذخیرہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے ذخیرہ کیا ہے، انھوں نے ان دونوں کو بلایا، پس وہ آ گئے، انھوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: اے امیرالمومنین! ہم اپنے مالوں سے اسی طرح کی خریدوفروخت کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالی اس پر افلاس یا کوڑھ کو مسلط کردیں گے۔ فروخ نے تو اسی وقت کہا: اے امیرالمومنین! میں اللہ تعالیٰ سے اور پھرآپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ اناج میں ذخیرہ اندوزی نہیں کروں گا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:ہم اپنے مالوں سے چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ابویحییٰ کہتے ہیں: میں نے بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس غلام کو کوڑھ زدہ دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ أَحْكَامِ الْعُيُوبِ/حدیث: 5944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابييحيي المكي وفروخ مولي عثمان۔ أخرجه ابن ماجه: 2155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 135»
وضاحت: فوائد: … ذخیرہ اندوزی: حافظ ابن حجرl نے کہا: … لان الاحتکار الشرعی امساک الطعام عن البیع وانتظار الغلاء مع الاستغناء عنہ وحاجۃ الناس الیہ۔ (شرعی ذخیرہ اندوزییہ ہے کہ غلہ کو روک لینا اور فروخت نہ کرنا، اس انتظار میں کہ نرخ چڑھ جائیں، جبکہ عوام کو اس کی شدید ضرورت ہو اور ایسا کرنے والا اس سے مستغنی ہو۔)
سعید بن مسیب کا خیالیہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا تعلق صرف اشیائے خوردنی کے ساتھ ہے۔لیکن ذخیرہ اندوزی کی مذمت کی احادیث عام ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانوں کی ضرورت کا تعلق صرف کھانے پینے کی اشیاء سے نہیں ہے۔
سعید بن مسیب کا خیالیہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا تعلق صرف اشیائے خوردنی کے ساتھ ہے۔لیکن ذخیرہ اندوزی کی مذمت کی احادیث عام ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانوں کی ضرورت کا تعلق صرف کھانے پینے کی اشیاء سے نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف