🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب وجوب قبولِ الْحَوَالَةِ عَلَى الْمَلِي وَتَحْرِيمِ مَطْل الْغَنّيِ
حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتَّبِعْ وَفِي لَفْظٍ وَمَنْ أُحِيلَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالد ار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تواس کو چاہیے کہ وہ یہ بات قبول کرے۔ ایک روایت میں ہے: جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تو وہ یہ حوالہ قبول کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَوَالَةِ وَالضَّمَانِ/حدیث: 6066]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2288، ومسلم: 1564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9974»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6067
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتَّبِعْهُ وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَوَالَةِ وَالضَّمَانِ/حدیث: 6067]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5395»
وضاحت: فوائد: … پہلے حوالہ کی مثال ملاحظہ کریں، زاہد نے عثمان سے ایک ہزار روپے کا قرض لینا ہے اور عثمان نے اتنی ہی رقم ابراہیم سے لینی ہے، اب عثمان زاہد سے کہتا ہے کہ تو نے مجھ سے جو ہزار روپیہ لینا ہے، وہ ابراہیم سے لے لینا، جبکہ ابراہیم مالدار بھی ہے، ایسی صورت میں زاہد کو چاہیے کہ وہ عثمان کی بات تسلیم کر لے اور اس کو قرض لینےیا دینے سے بری کر دے۔
حوالہ کی تعریف: … مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔
ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں