🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَاب مَنْ وَجَدَ سِلْعَتَهُ عِنْدَ رَجُلٍ اِبْتَاعَهَا مِنْهُ وَقَدْ أَفْلَس
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ وَفِي لَفْظٍ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّفْلِيسِ وَالْحَجْرِ/حدیث: 6073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2402، ومسلم 1559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7124»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6074
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ وَلَمْ يَكُنِ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّفْلِيسِ وَالْحَجْرِ/حدیث: 6074]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10807»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6075
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ التَّفْلِيسِ وَالْحَجْرِ/حدیث: 6075]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20370»
وضاحت: فوائد: … تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں