🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّرِيْقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ كَمْ تُجْعَلُ
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6092
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوا وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصُّلْحِ وَأَحْكَامِ الْجَرَارِ/حدیث: 6092]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2757»
وضاحت: فوائد: … اسلام ایسا باکمال مذہب ہے کہ یہ نہ صرف آخرت کو سنوارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، جو اس کا مقصودِ اصلی ہے، بلکہ دنیا میں بھی تنگ دستی و تنگ ذہنی سے آزاد ہو کر فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کے لیے قوانین وضع کرتا ہے۔ جہاںشریعت نے وسیع گھر کو امن و سعادت کی علامت قرار دیا ہے، وہاں کھلے راستوں اور کھلی گلیوں کی وجہ سے بھی کئی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس مسئلہ میں لوگ اتفاقِ رائے سے کوئی حد متعین کر لیں تو ٹھیک وگرنہ شریعت کا حکم نافذ ہو گا، جس کے مطابق کسی گزرگاہ کی چوڑائی سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ رکھی جائے گی۔ گلیوں کا دس گیارہ فٹ وسیع ہونا دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2339
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6093
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصُّلْحِ وَأَحْكَامِ الْجَرَارِ/حدیث: 6093]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه البيھقي:6/ 96، وأخرجه قوله: ’’لاضرر ولا ضرار‘‘ فقط ابن ماجه: 3341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2865»
وضاحت: فوائد: … ”اَلْمِیْتَائ“ باب ”اَتٰییَأْتِیْ“ سے مفعال کا وزن ہے اور میم زائد ہے، ”اَلطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ“ سے مراد بڑا راستہ ہے، جہاں سے کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے، بعض نے اس کے معانی کھلے راستے یا آباد راستے کے بھی کیے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه البيھقي:6/ 96
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میں راستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصُّلْحِ وَأَحْكَامِ الْجَرَارِ/حدیث: 6094]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7126»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6095
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يَتْرُكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعَ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى الْمِيتَاءَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصُّلْحِ وَأَحْكَامِ الْجَرَارِ/حدیث: 6095]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں