🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ جَوَاز إِخْرَاجِ مَيَازِيْبِ الْمَطَرِ إِلَى الشَّارِعِ بِشَرْطِ كَتِ الضَّرَرِ عَنِ الْمَارة
پرنالوں کا پانی سڑک کی طرف نکال دینے کا جواز، لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6096
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ كَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَى الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِهِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ایک پر نالہ تھا، اس کا پانی راستے پر گرتا تھا، ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لباس پہنا اور وہاں سے گزرے، اُدھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دو چوزے ذ بح کئے گئے تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پرنالے کے نیچے پہنچے تو چوزوں کے خون والا پانی اُن پر گرا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو وہاں سے اکھاڑنے کاحکم دے دیا اور خود واپس گھر لو ٹ کر کپڑے تبدیل کئے اور پھر تشر یف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، تب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! یہ وہ جگہ ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پرنالہ لگایا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: تو پھر میں تم سے پر زور بات کرتا ہوں کہ تم میری کمر پر چڑھو اور اس پرنالے کو اس جگہ پر نصب کر دو، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصُّلْحِ وَأَحْكَامِ الْجَرَارِ/حدیث: 6096]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1790»
وضاحت: فوائد: … یہ واقعہ بہت ہی ایمان افروزہے کہ صحابہ کرامe کس قدر آثار نبوت کو متبر ک تصور کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی کس قدر تابعد اری کرتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گلیوں اور سڑکوں میں پرنالے چھوڑے جا سکتے ہیں، البتہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے گزرنے والوں کو کوئی بڑی ایذا نہ پہنچے۔

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں