🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ رَبِّ الْمَعْصُوبِ بِعَيْنِهِ إِنْ كَانَ بَاقِيًا، وَقِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيمِ أَوْ رَدِ مِثْلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الأَمْثَالِ إِذَا أَتْلَفَهُ الْغَاصِبُ أَوْ تَلَفَ فِي يَدِهِ
غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6206
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ لَا يَضْمَنُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6206]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561، وابن ماجه: 2400، والترمذي: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20418»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی کسی کا مال عاریہ، امانت یا غصب کے طور پر لے لیتا ہے، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، یہ مضمون دوسری احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ حسن بصری اپنی بیان کردہ حدیث کو بھول جانے کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ عاریہ لینے والا ضامن نہیں ہوتا، لیکن ان کی بیان کردہ حدیث ان کے اس خیال کی تائید نہیں کرتی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6207
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ قَالَتْ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ إِنَاءٌ بِإِنَاءٍ وَطَعَامٌ بِطَعَامٍ
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی مانند کھانا تیار کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، ایک دفعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن میں کھانا دے کر بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے، میں خود پر ضبط نہ رکھ سکی اور میں نے (غیرت میں آ کر) وہ برتن توڑ دیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصب کے آثار نظر آنے لگے، میں نے کہا: میں اس بات سے پناہ مانگتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج مجھے لعنت کریں۔ پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن کے عوض برتن اورکھانے کے عوض کھانا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6207]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3568، والنسائي: 7/ 71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25670»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے غیرت میں آ کر برتن تو توڑ دیا اور کھانا بھی ضائع کر دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مسلمان کا مال دوسرے کے لیے حرام ہے، اس لیے اس معاملے انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3568
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں