الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ رَبِّ الْمَعْصُوبِ بِعَيْنِهِ إِنْ كَانَ بَاقِيًا ، وَقِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيمِ أَوْ رَدِ مِثْلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الأَمْثَالِ إِذَا أَتْلَفَهُ الْغَاصِبُ أَوْ تَلَفَ فِي يَدِهِ
غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
حدیث نمبر: 6206
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ لَا يَضْمَنُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6206]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561، وابن ماجه: 2400، والترمذي: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20418»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی کسی کا مال عاریہ، امانت یا غصب کے طور پر لے لیتا ہے، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، یہ مضمون دوسری احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ حسن بصری اپنی بیان کردہ حدیث کو بھول جانے کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ عاریہ لینے والا ضامن نہیں ہوتا، لیکن ان کی بیان کردہ حدیث ان کے اس خیال کی تائید نہیں کرتی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6206 in Urdu