🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6258
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6258]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9481»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان پر مہربانی کرنے کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ ہدیہ دینے والے کے ہدیے اور میزبان کی دعوت کی مقدار اور معیار کو سامنے نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے آدمی کا خلوص قبول کر کے اس کے سامنے خوشی کا اظہار کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ بھی دیا جائے۔ اس دور میں مال و زر اور ناز ونخرے والے لوگوں کے لیے اس قسم کی احادیث پر عمل کرنا خاصا دشوار کام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دعوت کرنے والے اور ان کو تحفے تحائف دینے والے لوگ ان کے معیار کے ہوں، اگر ان کی دعوت کی جائے تو پرتکلف انداز ہونا چاہیے اور اگر ان کو تحفہ دیا جائے تو وہ بہت قیمتی چیز ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبیوں کے سردار کے طرزِ حیات سے غفلت نہ برتیں اور جو چیز ان کی طبع کے مطابق نہ ہو، شریعت کی روشنی میں اس کو اچھے انداز میں قبول کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6259
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شَوَيْتُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا فَقَالَ ائْتِ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِهِ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ قَالَ فَقَبِلَهُ مِنِّي
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خرگوش بھاگا اور لوگ اس کے پیچھے دوڑے، میں اس کی طرف پہلا سبقت لے جانے والا آدمی تھا، پس میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے حکم دیا، پس اس کو ذبح کیا گیا، پھر میں نے اس کو بھونا، پھر انھوں نے اس کا نصف پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ، پس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور کہا: بیشک سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے خرگوش کا یہ پچھلا حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے قبول کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6259]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، وانظر الحديث الآتي من طريق ثان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13464»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6260
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ فَسَعَى عَلَيْهَا الْغِلْمَانُ حَتَّى لَغِبُوا قَالَ فَأَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا ثُمَّ بَعَثَ مَعِيَ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس کہتے ہیں: ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو بھگایا، لڑکے اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن وہ تھک گئے اور میں نے اس کو پکڑ لیا اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا، انھوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا سرین مجھے دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6260]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، وانظر الحديث الآتي من طريق ثان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12206»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا
۔ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن مجھے ہدیہ دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قبول کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6261]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17839»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول کرلیتے تھے اور صدقہ قبول نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6262]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8699»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حرام ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4512
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6263
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6263]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6071، والبيھقي في ’’دلائل النبوة‘‘: 2/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24104»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6264
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6264]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17840»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6265
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2577، ومسلم: 1074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13964»
وضاحت: فوائد: … جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا اور وہ اس کی مالک بن جاتی تو اس کا حکم بدل جاتا تھا، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صدقہ و خیرات وصول کرنے والے لوگوں کی ضیافتیا تحفے کو قبول کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ جب صدقہ و زکوۃ لینے والا صدقہ لے لیتا ہے تو اس کا حکم بدل جاتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ میں صدقہ نہیں رہتا، دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۶۷)۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2577
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6266
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَتْ عَلَيْهَا بِهَا فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَقْبَلَهَا
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے بکری کی ایک ٹانگ ان کو تحفے میں دی،یہ ٹانگ اس خاتون پر صدقہ کی گئی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو قبول کر لیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6266]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في ’’تفسيره‘‘: 2/ 279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27163»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في ’’تفسيره‘‘: 2/ 279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6267
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کی ایک بکری ان کی طرف بھیجی اور انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انھوں نے کہا: جی نہیں، البتہ نسیبہ (یعنی ام عطیہ) نے اس بکری کا ایک حصہ بھیجا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6267]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1446، 1494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27844»
وضاحت: فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی طرف صدقہ کی ایک بکری بھیجی، پھر اسی بکری کا گوشت بھی قبول کر لیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بکری کی مالک بنیں تو اس کا حکم بدل گیا، اب وہ صدقہ نہیں رہا، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت قبول کر لیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں