الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ لا وَصِيَّة لِوارِث
وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6332
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَأَنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712، والنسائي: 2/274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18254»
وضاحت: فوائد: … ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712
حدیث نمبر: 6333
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870، 3565، وابن ماجه: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22650»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870