🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ لا وَصِيَّة لِوارِث
وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6332
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَأَنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712، والنسائي: 2/274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18254»
وضاحت: فوائد: … ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6332 in Urdu