الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6370
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6370]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عوسجه لايعرف۔ أخرجه ابوداود: 2905، وابن ماجه: 2741، والترمذي: 2106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1930»
وضاحت: فوائد: … غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6371
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ) ) قَالَ: فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَدْفِعُوهُ إِلَى أَكْبَرِ خُزَاعَةَ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6371]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو بكر جبريل بن احمر الجملي ليس بالقوي۔ أخرجه ابوداود: 2904، والنسائي: 6396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23332»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6372
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6372]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2902، وابن ماجه: 2733، والترمذي: 2105، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25568»
وضاحت: فوائد: … بستی کے آدمی کا نہ ترکہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مستقل طور پر وارث بنتا ہے، دراصل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کا کوئی وارث موجود نہیں ہے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ بیت المال میں ترکہ جمع کروا دینے کے مترادف ہے، یعنی حکمران کویہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جیسے چاہے فیصلہ کر دے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6373
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: ( (هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِحَيَاتِهِ وَمَوْتِهِ) )
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2918، والترمذي: 2112، وابن ماجه: 2752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17077»
وضاحت: فوائد: … سعید بن منصور کی روایت میںیہ الفاظ زیادہ ہیں: ((یَرِثُہٗ وَیَعْقِلُ عَنْہُ)) … ”وہ اس کا وارث بنے گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔“ لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، لیکن اس کے بارے میں امام البانی نے کہا: فیستشھد بہ۔ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹)
یاد رہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ۹ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹)
یاد رہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ۹ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح