الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6371
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ) ) قَالَ: فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَدْفِعُوهُ إِلَى أَكْبَرِ خُزَاعَةَ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6371]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو بكر جبريل بن احمر الجملي ليس بالقوي۔ أخرجه ابوداود: 2904، والنسائي: 6396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23332»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6371 in Urdu