الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَاب مَا جَاءَ فِي الكَلالَةِ
کلالہ کا بیان
حدیث نمبر: 6383
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: ( (تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ) ) فَقَالَ: لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت تجھے کفایت کرتی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ یقینی بات ہے کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا تو یہ چیز مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6383]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 262»
وضاحت: فوائد: … کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کے والدین ہوں نہ اولاد۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے، اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سر کو اس کے اطراف یعنی کناروں سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لیے کہتے ہیں کہ اصول و فروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے، لیکن اطراف و جوانب سے وارث قرار پا جائے، جیسے بہن بھائی وغیرہ۔
سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6384
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: إِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ، وَمَا اغْلَظَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَاحَبْتُهُ مَا اغْلَظَ لِيْ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا رَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ مَا رَجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: ( (يَا عُمَرُ! أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ؟) ) فَإِنْ أَعْشِ أَقْضِ فِيهَا قَضِيَّةً يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا، جو میرے نزدیک کلالہ کی بہ نسبت زیادہ اہم ہو، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں مجھ پر اتنی سختی کی کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اتنی سختی نہیں کی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنا مراجعہ کلالہ کے بارے میں کیا، اتنا کسی اور مسئلے میں نہیں کیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے میں اپنی انگلی ماری اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کے آخر والی آیت کافی نہیں ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اگر میری زندگی رہی تو میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ بیان کروں گا کہ ہر شخص اس کو سمجھ جائے گا، وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6384]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 567، 1617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 186»
وضاحت: فوائد: … سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا اور آیت نمبر (۱۷۶) میں عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ذکر ہے، اگر دونوں مقامات کو غور کے ساتھ پڑھا جائے تو کلالہ سے متعلقہ مسائل سمجھ آ جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6385
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: ( (تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ) )
۔ سیدنا براء بن عاز ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسم گرما والی آیت تیرے لیے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماع ابي بكر بن عياش من أبي اسحاق ليس بذاك القوي وثبت الحديث عن عمرB كما سلف۔ أخرجه ابوداود: 2889، والترمذي: 3042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18790»
الحكم على الحديث: ضعیف